1,373

انسانیت کا خون: ڈاکٹر انصر فاروق مغل

ایک پر سوز ماحول تھا۔ ساری فضا سوگوار تھی۔ ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں دکھ ، درد اور افسوس کا اظہار کر رہا تھا۔ ایک جوان ۔ گبرو۔ کڑیل نوجوان کے لاشہ اس کے باپ کے گندوں پر تھا ۔ اس عمر میں تو جوان اولاد کی موت باپ کی کمر توڑ کے رکھ دیتی ہے ۔ کیونکہ باپ جب اپنے باغ کی آبیاری کر تا ہے ۔ تو وہ اللہ کریم سے دعا کرتا ہے کہ یا اللہ میرے اس گلشن کو اپنی حفظ و امان میں رکھنا اور اس کی حفاظت فرما نا ۔ اور جب وہ باغ لہلہانے لگتا ہے ۔ تو مالی کی ساری تھکن دور ہو جاتی ہے۔ اب وہ یہ خواہش کرتا ہے کہ یا اللہ میرے بیٹے میرے جنازے کو کندھا دیں اور مجھے لحد میں اتاریں ۔ مگر وہ مالک ہے ۔ وہ خالق ہے ۔ اس کے سارے کام نیارے ہیں اور بقول میاں محمد بخش صاحب ؎ مالی باغ نئیں ویکھن دیندا آیاں جدوں بہاریں (یعنی جب باغ میں بہار آتی ہے ۔ تو باغ کا مالی(اللہ ) اس باغ کو دیکھنے ہی نہیں دیتا )
جی ہاں جب جوان اولاد کی خو شیاں دیکھنے کا وقت آتا ہے تو اللہ کریم نے اولاد کو ہی اپنے پاس بلا لیا
چوہدری نعیم رضا کوٹلہ کا بیٹا ۔ چوہدری عبدالمالک کوٹلہ کا پوتا۔ اور چوہدری شاہد رضا کوٹلہ کا بھتیج جوانسال بھتیجا ۔ چوہدری علی رضا مالک کا نماز جنازہ تھا ۔ نماز جنازہ میں شامل اکثریت ایسے بادشا ہوں کی تھی ۔ جو جنازے میں کم اور الیکشن مہم مین زیادہ آئے تھے۔ ایک دوسرے کو ہنس ہنس کے گلے ایسے مل رہے تھے جیسے کسی میت کی تدفین میں نہیں آئے ، بلکہ کسی شادی یا جلسے میں آئے ہیں۔ اور بعض تو ایسے بھی تھے جو اپنے اپنے پسندیدہ لیڈر کے ساتھ موقع غنیمت جان کے فوٹو سیشن کروا رہے تھے۔ اور کچھ ایسے بھی تھے جو لگے ہاتھوں سیلفیا ں بھی بنا رہے تھے۔ الغرض بہت کم لوگ تھے ۔ جو اس مرگ میں آئے ہولگ رہے تھے ۔ اور کسی قسم کا ہنسی مذاق اور ٹھٹھ کرنے کی بجائے کاخاموشی سے جنازے کا انتطار کر رہے تھے۔ ناقدین کے مطابق یہ کوٹلہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ اس میں تمام سیاسی پارٹیوں کے موجودہ اور سابق امیدوار شامل تھے۔ مذہبی شخصیات بھی شامل تھیں ماسوائے چند اپنوں کے جن کو اس جنازہ میں شامل ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ کہتے ہیں کہ دشمن مرے تے خوشی نہ کرئیے ۔۔۔۔۔ سجناں وی مر جانا۔۔۔۔ موت تو برحق ہے ۔ سب کو آنی ہے ۔۔۔ بہر حال اس جنازے میں میں نے انسانیت کا خون ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ اور اس سے بہتر تھا کہ یہ کوٹلہ کی تاریخ کی سب سے کم تعداد والا جنازہ کہلاتا ۔ بجائے اس کے کہ یہ سب سے بڑا جنازہ کہلایا ۔۔۔۔ اور دکھ درد اور ثواب کی نیت سے بہت کم لوگو اس میں شامل تھے ۔ جب کہ دکھاوے اور الیکشن کمپین کے حوالے سے بہت زیادہ لوگ اس میں شامل تھے۔ میں دیکھا کہ ایک مجبور اور بے بس و لاچار باپ ہے ۔ جو غم سے نڈھال ہے ۔ اس کو کوئی ہوش نہیں کہ کون آرہا ہے اور کون جارہا ہے ۔ مگر یاران نکتہ داں تھے کہ بس فوٹو سیشن کو بے تاب تھے ۔ اور چند ایک تو باقاعدہ فوٹو گرافر کو آواز دے رہے تھے کہ یار ایک فو ٹو ساڈی وی بنا اور ساتھ ہی باچھیں جہاں تک ان کا حدوداربعہ تھا کھل گئی ۔ اللہ معاف کرے ۔ ہم نے جنازوں کو بھی کھیل اور تفریخ کا ذریعہ بنا لیا ہے ۔ بجائے اس کے کہ مرنے والے کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا جائے ۔ ہم اپنی ہی ہنسی مذاق مین مشغول ہو جاتے ہیں۔ اور بجائے اس کے کہ دوسرے کا دکھ کم کریں ۔ بانٹیں ۔ ہم اس کے دکھ اور درد میں اضافے کا سبب پیدا کرتے ہیں ۔ اور سبب بنتے بھی ہیں ۔اور میں نے جو الفاظ ایک باپ کی زبان سے سنے وہ تھے جو وہ زیر لب کہ رہا تھا کہ یار اس کو دفن بھی کرنے دو کہ اس نے اکیلے ہی جانا ہے قبرستان ۔۔۔ ایک باپ کے کرب کا اندازہ ان الفاظ کی ادائیگی سے ہی لگا لیں ۔ کہ اس کی حالت کیا تھی۔ سچ ہے کہ جس تن لاگے وہی تن جانے ۔۔۔۔۔ کہ کیسی ہے اس درد کی مایا ۔۔۔۔ اللہ کریم مرحوم کو جنت الفردوس مین اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔ اور لواحقین کو اس گہرے صدمے کو برداشت کرنے کا ہمت و حوصلہ عطا فرمائے ۔۔۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں