931

چوہدری نعیم رضا اور چوہدری شاہد رضا راہیں جدا؟؟؟؟

کوٹلہ ارب علی خاں (زین خیر کتوی)
سابق مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری نعیم رضاکوٹلہ نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ سریعہ روڈ کوٹلہ سے لاتعلقی کا اعلان کر تاہوں آج کے بعد میر ا چودھری شاہد رضا سے کوئی تعلق نہیں ۔میں اپنے فیصلے اپنے والد چوہدری عبدالمالک اور بھائی چوہدری حاجی عبدالخالق کی خدمت مشن کو جاری رکھنے کے لئے جو بہتر ہو گا وہی کروں گا ۔انہوں نے کہا کہ چوہدری شاہد رضا اور راجہ حق نواز بابر اپنی سیاست کریں میرے لئے جو بہتر ہو گا میں وہی فیصلے کروں گا۔چودھری شاہد رضا اور اس کے سیکرٹری راجہ حق نواز بابر نے میرے ساتھ دھوکہ اور فراڈ کیا ہے اور الیکشن میں میرا بہت نقصان کیا ہے مجھے اندھیرے میں رکھا گیا،ایسے مافیا کے ساتھ منسلک رہ کر اپنی ساکھ کو مزید نقصان نہیں پہنچانا چاہتا،ایک بہت بڑا انکشاف کرتے ہوئے ان کا کہناتھاکہ میر ے بیٹے کی وفات طبعی موت سے نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے بھی ہیبت ناک المیہ ہے ،تمام ثبوت اکٹھے کر لیے ہیں جلداس حیرت ناک المیہ کا پردہ بھی چاک کروں گا،بڑے دکھ اور گھٹن کے بعد ظلم سہہ سہہ کرعلاقہ کی بہتری کے لیے تلخ فیصلہ کر نے پر مجبور ہواہوں ، چودھری شاہد رضا کوٹلہ ، راجہ حق نواز بابر ، راجہ عامر وہاب ، میاں ذبیع اللہ گلیانہ ، میاں سیف اللہ علاقہ میں غیرقانونی سرگرمیوں کے سر غنہ ہیں ، تنگ آکر بغاوت کا الم بلند کیا اور اس ظلم و بربریت کو ختم کرنے کا فیصلہ کیاہے ،انشاء اللہ ماضی میں جس طرح علاقہ کو مافیا سے نجات دلائی میرے گھر میں میرے نام سے جو جو ظلم ہو رہے ہیں سب کو بے نقاب بھی کروں گا اور جہان دیکھے گا قلع قمع بھی کروں گا،ایک سوال کے جواب میں ان کاکہناتھاکہ میں نے علاقہ میں ایک مافیا کو بے نقاب کر نے اور اس کے خاتمہ کا عہد کیاہے، اس مافیا سے جہاد کے لیے کوئی نیا ڈیرہ بنانے کا فیصلہ ابھی نہیں کیا ، البتہ نہ سیاست کو خیر آباد کیاہے اور نہ ہی بیرون ملک جارہاہوں ، میں ادھر ہی ہوں اور جلد اپنا سیاسی لائحہ عمل کا اعلان بھی کروں گا،میڈیا کے ایم این اے چودھری عابد رضا سے صلح کے سوال پر جوابا ان کاکہناتھا کہ ہمارے اختلاف کی اصل وجہ صلح کا پروپوگنڈا اور عابد رضا سے خفیہ ملاقاتوں کا انکشاف ہے ، کبھی افواپھیلائی جاتی ہے کہ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سیاست چھوڑ کر ناروے چلا گیاہوں ،سب منفی پراپوگنڈہ ہے اب حالات اس قدر کشیدہ ہو چکے ہیں اگر بہتری کے لیے مجھے ڈیرہ چودھری عبدالمالک کا انتخاب کرنا پڑا تو ضرور کروں گا،تنہا ہی سہی مگر ظلم کا ساتھ کسی صورت نہیں دوں گااور میرا یہ اعلان بھی اٹل ہے ظلم کے خاتمہ تک بلاخوف خطر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کروں گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں