350

سکول کالجز کے طلباء کے لیے بری خبر : تبدیلی سرکار نے طالب علموں پر بڑی پابندی عائد کر دی

لاہور (ویب ڈیسک ) خبر دار ہوشیار ،طلبہ وطالبات اس کام سے باز رہیں پھر نہ کہیے گا بتایا نہیں ۔ جی ہاں ! پنجاب کے سرکاری کالجز کے طلبہ کیلئے نیا ہدایت نامہ جاری کر دیا گیا جس کے مطابق پنجاب کے طلبہ پر متعدد جرمانے نافذ کر دئیے گئے۔پنجاب بھر میںاس وقت سینکڑوں سرکاری کالجز موجود ہیں جس میں ہزاروں طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں تاہم اکثر سرکاری کالجز میں جس مسئلےکا اکثر و بیشتر سامنا کرنا پڑتا ہے وہ ڈسپلن کا ہے۔موجودہ حکومت جہاں دیگر شعبہ جات کو بہتر بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے وہیں تعلیم اور تعلیمی ماحول کو بہتر کرنے کے حوالے سے بھی پرعزم ہے یہی وجہ ہے کہ پنجاب بھر میں سرکاری اداروں کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کئیے جا رہے ہیں۔اس حوالے سے پنجاب کے سرکاری کالجز کے طلبہ کیلئے نیا ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہے جس میں کالج کے ڈسپلنری ضابطہ اخلاق کو موضوع بنایا گیا ہے اور متعدد ڈسپلنری خلاف ورزیوں پر متعدد جرمانے عائد کئیے گئے ہیں۔پنجاب کے سرکاری کالجز کے طلباء کو خبر دار کیا گیا ہے کہ بغیر یونفارم آنے پر انکو 150 روپے جرمانہ کیا جائے گا جبکہ ان کے پاس کسی قسم کا ریکارڈ یا کیمرہ پایا گیا تو انکو 1 ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا جبکہ موبائل کی موجودگی میں موبائل ضبط کر لیا جائے گا اور ضبط شدہ موبائل صرف والدین کو لوٹایا جائے گا دوسری جانب صوبائی وزیر سکولز ایجوکیشن مراد راس نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب نے بہترین بجٹ پیش کیا ہے۔

رواں سال کا بجٹ عوامی امنگوں کا آئینہ دار ہے جس میں ایجوکیشن سیکٹر کیلئے خطیر رقم مختص کی گئی ہے یہ بات انہوں نے نیو منسٹر بلاک میں ماہرین تعلیم کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔صوبائی وزیر مراد راس نے کہا کہ ٹیچرز ٹریننگ اور کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی پاکستان تحریک انصاف کا مشن ہے۔ گزشتہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث صوبہ پنجاب میں90لاکھ سے زائدسکولوں سے باہر بچوں کو سکولوں میں لے کر آئیں گے۔مراد راس نے کہا کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق پنجاب کے سکولوں میں طلبا و طالبات کو ٹیبلٹ کمپیوٹرز کی فراہمی کیلئے پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز کیا جا رہا ہے۔تا کہ قوم کے نونہال انفارمیشن ٹیکنالوجی کواستعمال میں لاتے ہوئے جدیددور کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔صوبائی وزیر مرا د راس نے کہا کہ پنجاب کے ہائی سکولز میں ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن کے فروغ کیلئے نیا پروگرام متعارف کروایا جا رہا ہے جس سے فنی تعلیم کو فروغ حاصل ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت نجی اور سرکاری سکولزکیلئے بالترتیب 12ارب اور14ارب روپے کے فنڈز تجویز کئے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں