425

پاکستانی خواتین کسی سے کم نہیں اپنے اپنے شعبوں میں بہترین خدمات سرانجام دینے والی خواتین معاشرے کی ترقی کیلئے کوشاں ہیں:شائستہ حسن

پاکستانی خواتین کسی سے کم نہیں اپنے اپنے شعبوں میں بہترین خدمات سرانجام دینے والی خواتین معاشرے کی ترقی کیلئے کوشاں ہیں۔ پاکستانی خواتین کا کوئی جواب نہیں ہمت، حوصلہ، محنت اور لگن یہ ہیں پاکستانی خواتین کی پہچان میدان کوئی بھی۔۔ شعبہ جیسا بھی ہو۔۔۔ خواتین اپنے اپنے طور پر خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔پاکستانی خواتین کے بارے میں بیرون ملک یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ان کو چار دیواری میں قید کر کے رکھا جاتا ہے اور ان کو اپنے خیالات کے اظہار کے مواقع فراہم نہیں کئے جاتے جبکہ پاکستان کی تاریخ اس کے بر عکس ہے۔قیام پاکستان کے وقت سے ہر شعبہ میں خواتین کا ایک خاص کردار رہا ہے انہوں نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کر کے ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔جہاں تک پاکستانی عورت کی بات ہے تو وہ اپنی اہمیت سے آشنا ہے اسے معلوم ہے کہ اب ہاتھ پر ہاتھ دھر کر گھر بیٹھنے کا وقت نہیں ہے بلکہ ملکی ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے کے لئے اسے تمام ایسی رکاوٹوں کو توڑ ڈالنا ہے جو اس کی آزادی اور ترقی میں حائل ہیں۔پاکستانی خواتین نا صرف ملک پاکستان میں بلکہ بیرون ملک بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں۔آج ہم آپکی ملاقات ایسی ہی ایک باصلاحیت خاتون سے کروائیں گئے جنہوں نے اپنے بل بوتے پر پاکستان سمیت یورپ میں اپنا نام بنایا۔ان کا نام ہے محترمہ شائستہ حسن ہے۔لاہور میں پیدا ہوئیں۔ابتد ائی تعلیم گورنمنٹ فاطمہ جناح گرلز ھائی سکول، گورنمنٹ اسلامیہ کالج کوپر روڈ سے ایف ایس سی اور بی ایس سی کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا۔تعلیمی لحاظ سے بچپن سے ہی ذہین ہیں۔اس کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے کیمسٹری میں ایم اے کیا۔ ماسٹرز میں ریسرچ ورک دنیا کے خطرناک ترین زہر پوٹاشیم سائانائیڈ پر PCSIR لیبارٹریز سے کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کچھ عرصہ ایک آرمی پبلک سکول میں کیمسٹری اور فزکس کی ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ رہی۔ پھر تین سال سول ایوی ایشن میں بطور فیسیلیٹیشن سپروائزر خدمات انجام دیں۔ مقابلے کے امتحان میں لیکچرر کیمسٹری پاس ہوئیں اور پھر قائداعظم یونیورسٹی جیسے ملک کے بڑے ادارے میں دس سال یہ فریضہ انجام دیا۔ اسی دوران ریڈیو اور پاکستان ٹیلیویڑن سے نیوز کاسٹر کے فرائض بھی دیے۔بچپن سے ہی بے حد ذہین واقع ہوئی تھیں۔ سکول جانے سے پہلے ہی ڈھائی تین سال کی عمر میں پڑھنا لکھنا سیکھ چکی تھیں۔ قرآن پاک کوچھ ماہ کے قلیل عرصہ میں مکمل پڑھ لیاتھا۔ دس برس کی عمر تک یعنی جب عام طور پر بہت سے بچے لفظوں کے ہجے کرنا سیکھ رہے ہوتے تھے میں اس وقت بہت سی دینی کتب مثلاً احادیث، موت کا منظر، مرنے کے بعد کیا ہو گا اور دینی مسائل اور انکا حل وغیرہ پڑھ چکی تھیں۔شائستہ کہتی ہیں چونکہ ہمارا گھرانہ شروع سے ہی کافی تعلیم یافتہ اور مہذب تھا لہذا آپ جناب صاحب اور اسی طرح ادب آداب جیسے الفاظ گْھٹی میں پڑے تھے اور آج بھی ناشائستہ گفتگو سے خاصی تکلیف ہوتی ہے کیونکہ یہ تو ہما رے مذہب میں بھی حْسنِ اخلاق کی تلقین کی گئی ہے کہ لوگوں سے اچھا برتاؤ کرو، انھیں اچھے ناموں سے پکارو وغیرہ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ناموں کو پیار سے غصے سے یا حقارت سے بگاڑنا ایک وطیرہ بن چکا ہے اور بے تکلفی کا پیمانہ گالی گلوچ کو تصور کیا جاتا ہے۔ دس برس تک پھر میڈیا کی فیلڈ سے وابسطہ رہیں۔شادی کے بعد ناروے شفٹ ہو گئیں۔ناروے میں جا کر بھی علم کی پیاس نا بجھی اور وہاں جا کر بھی اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔. پاکستان میں قیام کے دوران ڈاکٹریٹ کی ڈگری کا جو آغاز کیا تھا وہ سلسلہ ناروے شفٹ ہونے کی وجہ سے مْنقطع ھو گیا تھا وہ دوبارہ اوسلو یونیورسٹی سے شروع کیا ہے۔شائستہ حسن کہتی ہیں کہ ناروے آ کر سب سے زیادہ پریشانی کلچر کی ہوئی کیونکہ میں نے اس سے پہلے بیرون ملک نہیں گئی تھی اور کلچر میں ایڈجسٹ ہونے میں مشکلات پیش آئیں۔ناروے اور پاکستان کے کلچر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ں یہاں آ کر بہت کْچھ سیکھا۔ناروے میں انسانیت کا احترام، انسانی حقوق کی پاسداری، وقت کی پابندی، صفائی ہے۔ ناروے آکر یہاں مختلف سماجی بہبود کی تنظیموں کو جوائن کیا مثلاً”پاکستانی خواتین کے حقوق کے لیے انٹر کلچرل خواتین، سکون، ادبی دریچہ، گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن شامل ہیں۔ان تنظیمون کے ساتھ بے شمار سماجی کاموں میں اپنا حصہ ڈالا۔ گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن کی طرف سے حال ہی میں اٹلی کے شہر میلان سولارو کی مئیر نے میری سماجی اور ادبی خدمات کے سلسلے میں اعزازی شیلڈ سے نوازا جس کے لیے میں گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اور مئیر کی انتہائی مشکور و ممنون ہوں اور ایسی مزید ادبی و سماجی خدمات کے لیے پْر عزم ہوں جو تا حیات انشاء اللہ جاری ہیں گی۔ جب میں پاکستان میں رہتی تھی تو ہمیشہ آلودگی کے سدِّباب کے بارے میں سوچتی تھی کہ ہمارا ملک میں کِس قدر آلودگی ھے، جگہ جگہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگے ہیں، بازارہو ں یا ہسپتال، گلی محلے حتیٰ کہ درسگاہیں اور مساجد کے عین باہر بھی ہر جگہ تعفن زدہ اور بدبو دار ہو تی ہے۔ پینے کا پانی میسر ہی نہی، صاف پانی تو دور کی بات ھے، ہوا نہ صرف گاڑیوں سے نکلتے زہریلے دھویں سے آلودہ بلکہ بے ھنگم ٹریفک کے شور سے فضا بھی اس حد تک آلودہ کہ کان پڑی آواز بھی سنائی نہ دے۔ یہ سب آلودہ عناصر میری حساس طبیعت کو پریشان کرتے تھے لیکن لڑکی خاتون ہونے کے ناطے بہت سی سماجی، مذہبی اور معاشی رکاوٹوں کی وجہ سے کوئی حل جو سْجھائی بھی دیتا تھا تو اس پر عملدرآمد ناممکن نظر آتا تھا۔میں پاکستان میں پانی اور فضائی آلودگی کی جس کو ختم کرنے کے نت نئے طریقے اکثر سوچا کرتی تھی۔ میری یہ دلی خواہش بھی ہے اور آئندہ کْچھ پراجیکٹس بھی ڈیزائن کر رہی ہوں کہ پاکستان کے دور دراز علاقوں میں لوگوں کو بجلی اور پینے کا صاف پانی مہیا کیا جا سکے۔ہر بیرونِ مْلک مقیم پاکستانی کی طرح میں بھی پاکستان کو صاف ستھرا پھولوں سے مہکتا اور خوشحال دیکھنا چاھتی ھوں۔اور اسکے لیے میں بہت جلد کْچھ عملی اقدام اْٹھانے والی ہوں۔ اور پھر اللہّٰ تعالیٰ نے جنت کے ایک حسین ٹکڑے ناروے میں مْجھے بھیج دیا جو کہنے کو ایک غیر مْسلم مْلک ہے لیکن بیشتر اسلامی قوانین پر سختی سے عمل پیرا نظر آتا ہے۔. ناروے ایک ویلفئیر سٹیٹ ہے۔ یہاں ہر بچے کو پہلے دِن سے لیکر اٹھارہ سال کی عْمر تک وظیفہ لگا دیا جاتا ہے۔ بوڑھے لوگوں کو پینشن دی جاتی ھے اور بیروزگار کو نہ صرف معاشی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ بلکہ انہیں روزگار اور کاروبار کی طرف راغب کرنے کے لیے بھی مختلف کورسز کروائے جاتے ہیں۔ اسی طرح نوجوان طبقہ کوبھی تعلیم و ہْنر کے زیور سے آراستہ کر کے انہیں معاشرے کا مضبوط ستون بنایا جاتا ہے۔میرا گھرانہ قیام پاکستان کے لیے چلنے والی تحریک کا ہراوال دستہ تھا۔والد محترم ادریس محمد خان قائداعظم محمد علی جناح کے قریبی رفقاء میں سے تھے۔والد صاحب نے قیام پاکستان کے لیے دن رات کام کیا۔ میرے والد صاحب کو قیامِ پاکستان کے وقت کی گئیں اْنکی خدمات کے صلے میں تحریکِ کارکنانِ پاکستان اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی جانب سے گولڈ میڈل سے نوازا گیا اور یہ سوچ کر ہی میرا سر فخر سے بلند ہو۔ جاتا ہے کہ میری رگوں میں اس باپ کا خون دوڑتا ہے جس نے قیامِ پاکستان کے لیے اپنی جان و مال کی قْربانی سے بھی دریغ نہ کیا اور پورے حوصلہ و ہمت سے لْٹے پِٹے مْہاجرین کی آبادکاری میں دِن رات ایک کر دیا۔آج کل میں نے سوشل میڈیا پر لوگوں کی اِصلاح کا بیڑا بھی اْٹھایا ہے۔لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ سوشل میڈیا پر گفتگو کیسے کی جاتی ہے۔. شائستہ حسن دو کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں اور مزید کتب منظرعام پر جلد آنے والی ہیں۔شائستہ حسن نے خواتین کے حقوق پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے موجودہ معاشرے میں خواتین پر مختلف طور طریقے اور رویوں کے ذریعے جو ظلم ڈھائے جاتے رہے ہیں ان کے خلاف نہ صرف رسمی طور پر آواز بلند کی جائے بلکہ ایسے قوانین وضع کرنے پر زور دیا جائے جن کی بناء پر خواتین کو ہر طرح کا تحفظ فراہم کیا جائے اور عورتوں کو عملی طور پر مردوں کے مساوی حقوق حاصل ہوں اور معاشرے میں مردوں کی برتری اور فوقیت کے احساس کو ختم کیا جائے۔پاکستانی معاشرے میں آج بھی تیزاب کے ذریعے عورتوں کے چہرے مسخ کئے جاتے ہیں،غیرت کے نام پر عورتوں کو قتل کیا جاتا ہے اور صدیوں پرانی فرسودہ اور ظالمانہ رسم کاروکاری کا راج ہے۔صنفِ نازک کے ساتھ ہمدردی،خیر خواہی سمیت اس کے فطری جذبات کی قدر کرنا وقت کی ضرورت ہے۔شائستہ حسن نے کہا کہ بد سے بدنام براکے مصداق اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہاں فرسودہ روایات،تعلیم کی کمی اورخواتین میں اپنے حقوق بارے آگاہی کے فقدان جیسے عوامل کے باعث مردوں کے اجارہ دارکہلاتے معاشرہ میں خواتین کے ساتھ نامناسب سلوک کیاجاتا ہے اور وہ مظلومیت کانشانبن کررہ جاتی ہیں لیکن صرف مردوں کوموردالزام ٹہراناکہ وہ ہی ظالم بن کرخواتین کوزیادتی کانشانہ بناتے ہیں اور ان کے ساتھ نارواسلوک روارکھتے ہیں جبکہ عورتیں محض شرافت اورمظلومیت کامجسمہ بن کر سب کچھ چاروناچار سہہ لیتی ہیں۔پاکستان میں عورتوں کی طلاق کی شرح میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اس پر شائستہ کا کہنا تھا کہ اسلام نے طلاق کی اجازت و رخصت دی ہے لیکن اس میں حکمت تو یہ ہے کہ اگر کوشش کے باوجود بھی میاں بیوی میں تعلقات استوار نہ ہوپائیں تو اس حالت میں دونوں اپنی زندگیوں سے دکھ و غم سے نجات حاصل کرکے راحت کی زندگی بسر کرسکیں۔اسی لیے بیان کیا گیا کہ طلاق دودفعہ،تاکہ بہتری سے رہ تعلق بحال رکھیں یا خوش اسلوبی سے علیحدگی اختیار کرلیں۔انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے دیہی علاقوں کی خواتین دو طرح کے مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے پہلی بات یہ ہے کہ عورت اپنے حقوق سے ناواقف و نا آشنا ہے۔مردوں کی جاہلیت و دین سے ناآشنائی کی وجہ سے عورت کے ساتھ نارواسلوک کا رویہ اختیار نہ کیا جائے۔مرد یہ سمجھتا ہے کہ اس کا مقام و مرتبہ عورت کے مقابلہ میں زیادہ ہے اس کے اظہار کے لیے ضروری ہے کہ ان پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ عورتیں اپنے حقوق سے واقف ہوتی ہیں،اس کا عقل و شعور کی بلندی تک پہنچ چکی ہوتی ہیں تو ایسے وقت میں جب شادی کا فیصلہ طے کرنے کا وقت آئے تو اس وقت غور و فکر کرکے نکاح و شادی کا فیصلہ کریں۔بدقسمتی کی بات ہے کہ بعض تعلیم یافتہ عورتوں کی شادی قبیلائی رسوم و رواج کی بنیاد پر استوار کیا جاتاہے جس میں عورت کی مرضی معلوم نہیں کی جاتی۔ عورتوں کی جانب سے والدین کی رضامندی و رغبت کا جنازہ نکال کر جس سے شادی کا فیصلہ کرتی ہے کوئی بعید نہیں کہ اس کو وہاں بھی دھوکہ ملے تو ایسا کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ تعلیم یافتہ عورت اس معاملہ کو باریک بینی سے دیکھتے ہوئے احتیاطی امور سرانجام دے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں عورت پر سختی بہت زیادہ خطرناک نتائج کا پیش خیمہ بنتی ہے۔خواتین معاشرے کا اہم حصہ ہیں۔ انہیں خود مختار اور فعال بنا کر قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے تمام تر اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔ خواتین کے لیے ملازمتوں میں کوٹہ، وراثت میں حصہ اور ملازمت کی جگہ ان کے تحفظ اور تکریم کو یقینی بنانے کے اقدامات اٹھائے جائیں۔ عورتوں اور بچیوں کے ساتھ روز ہونے والے مظالم کے خاتمے کے لیے سیاسی جدو جد کی ضرورت ہے۔ بد قسمتی سے ملک میں خواتین کے حوالے سے قوانین تو موجود ہے لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا، آج بھی خواتین بے پنا ہ مسائل کا شکا رہے لیکن حکومت ان مسائل سے نمٹنے کے لئے اسے کوئی پروا نہیں،خواتین کو آ گے بڑھنے کے لئے تعلیم پر توجہ دینی ہو گی تب ہی دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا مقابلہ کر سکتی ہے،دیہاتوں کے اندر کھیتوں کے اندر کام کرنے والی خواتین کو اپنے بنیادی حقوق کی آگاہی ہی نہیں، جس سے وہ آگے نہیں بڑھ پاتی۔
خواتین کے سوشل میڈیا پر ہراساں کیے جانے کے حوالے سے محترمہ شائستہ حسن کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ہر مکتبہ فکر کے افراد ہونے کے ساتھ ساتھ مرد و خواتین بھی ایکٹو ہیں۔مختلف اوقات میں ایسا ہوتا ہے کسی گروپ یا کسہ پوسٹ میں کوئی نا کوئی موضوع سرگرم ہوتا رہا چاہیے وہ سیاسی کشمکش ہو مذہبی یا پھر مرد و خواتین کا ٹکراو۔ ہمیں سوشل میڈیا کا استعمال ادب اور تہذیب کے دائرے میں رہ کر کرنا چاہیے۔ہمیں اس بحث میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ عورت کو کیا پہننا چائیے بجائے اس کے کہ اس بحث میں الجھا جائے اگر کسی کی اصلاح کرنی ہو تو ساتھ اس کے مخالف پہلو کے بھی منفی پہلو اجاگر کریں۔جیسے عورت کے پہننے پر اعتراض ہو تو ساتھ یہ بھی لکھا جائے کہ مرد یہ غلط کرتا اور عورت یہ۔ معاشرے میں اخلاقی بگاڑ کا موجب صرف خواتین نہیں بلکہ اکثریت ہم مردوں کی سوسائٹی کے بگاڑ میں اہم کردار ادا کرتی اور عورتیں یہ سمجھیں کہ مردوں نے ان کا جینا حرام کیا ہوا تو وہ اپنی اپنے گھر کی اصلاح کریں معاشرہ خود بدل جائے گا۔ بجائے ایک جنس کو راہ لگانے کے پورے معاشرے کی اصلاح کی بات کی جائے۔ ہمارے رویے سے ایک جنس کی تذلیل ہو تو وہ ردعمل نا ظاہر کرے ایسا ممکن نہیں۔ اس لیے جب خواتین کو سوشل میڈیا سے حوصلہ مل رہا آگے آنے کا اور سوسائٹی میں مثبت چینج لانے کا تو انہیں ایسے موضوع میں الجھا کر حوصلہ شکنی کے بجائے انہیں اور حوصلہ دیا جائے کہ وہ آگے آئیں ایسا تب ہی ممکن ہے جب وہ خود کو سوسائٹی میں برابر کا شریک سمجھیں گی۔اور خواتین سے عرض ہے کہ مردوں کے مثبت کردار کے بغیر سوسائٹی میں کوئی چینج آئے ناممکن بات ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں