133

ناروے میں کمیونٹی جج ،سماجی راہنما ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی کی سابقہ نیوز کاسٹر ممتاز پاکستانی سائنس دان محترمہ شائستہ حسن

ناروے میں مقیم ممتاز پاکستانی سائنس دان محترمہ شائستہ حسن اب پوٹھوہار نیوز کے قاریئن کے لئے کالم لکھا کریں گی،ان کے کالموں کے باقاعدہ آغاز سے پہلے ان کا ایک تعارف
قیام پاکستان کے وقت سے ہر شعبہ میں خواتین کا ایک خاص کردار رہا ہے انہوں نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کر کے ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔جہاں تک پاکستانی عورت کی بات ہے تو وہ اپنی اہمیت سے آشنا ہے اسے معلوم ہے کہ اب ہاتھ پر ہاتھ دھر کر گھر بیٹھنے کا وقت نہیں ہے بلکہ ملکی ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے کے لئے اسے تمام ایسی رکاوٹوں کو توڑ ڈالنا ہے جو اس کی آزادی اور ترقی میں حائل ہیں۔پاکستانی خواتین نا صرف ملک پاکستان میں بلکہ بیرون ملک بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں ۔آج ہم آپکی ملاقات ایسی ہی ایک باصلاحیت خاتون سے کروائیں گئے جنہوں نے اپنے بل بوتے پر پاکستان سمیت یورپ میں اپنا نام بنایا ۔ان کا نام ہے محترمہ شائستہ حسن ہے ۔لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ابتد ائی تعلیم گورنمنٹ فاطمہ جناح گرلز ھائی سکول ، گورنمنٹ اسلامیہ کالج کوپر روڈ سے ایف ایس سی اور بی ایس سی کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا ۔تعلیمی لحاظ سے بچپن سے ہی ذہین ہیں۔اس کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے کیمسٹری میں ایم اے کیا ۔ ماسٹرز میں ریسرچ ورک دنیا کے خطرناک ترین زہر پوٹاشیم سائانائیڈ پر PCSIR لیبارٹریز سے کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کچھ عرصہ ایک آرمی پبلک سکول میں کیمسٹری اور فزکس کی ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ رہی۔ پھر تین سال سول ایوی ایشن میں بطور فیسیلیٹیشن سپروائزر خدمات انجام دیں۔ مقابلے کے امتحان میں لیکچرر کیمسٹری پاس ہوئیں اور پھر قائداعظم یونیورسٹی جیسے ملک کے بڑے ادارے میں دس سال یہ فریضہ انجام دیا۔ اسی دوران ریڈیو اور پاکستان ٹیلیویڑن سے نیوز کاسٹر کے فرائض بھی دیے۔بچپن سے ہی بے حد ذہین واقع ہوئی تھیں۔ سکول جانے سے پہلے ہی ڈھائی تین سال کی عمر میں پڑھنا لکھنا سیکھ چکی تھیں۔ قرآن پاک کوچھ ماہ کے قلیل عرصہ میں مکمل پڑھ لیاتھا۔ دس برس کی عمر تک یعنی جب عام طور پر بہت سے بچے لفظوں کے ہجے کرنا سیکھ رہے ہوتے تھے میں اس وقت بہت سی دینی کتب مثلاً احادیث، موت کا منظر، مرنے کے بعد کیا ہو گا اور دینی مسائل اور انکا حل وغیرہ پڑھ چکی تھیں۔شائستہ کہتی ہیں چونکہ ہمارا گھرانہ شروع سے ہی کافی تعلیم یافتہ اور مہذب تھا لہذا آپ جناب صاحب اور اسی طرح ادب آداب جیسے الفاظ گھٹی میں پڑے تھے اور آج بھی ناشائستہ گفتگو سے خاصی تکلیف ہوتی ہے کیونکہ یہ تو ہما رے مذہب میں بھی حسنِ اخلاق کی تلقین کی گئی ہے کہ لوگوں سے اچھا برتاوکرو، انھیں اچھے ناموں سے پکارو وغیرہ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ناموں کو پیار سے غصے سے یا حقارت سے بگاڑنا ایک وطیرہ بن چکا ہے اور بے تکلفی کا پیمانہ گالی گلوچ کو تصور کیا جاتا ہے ۔ دس برس تک پھر میڈیا کی فیلڈ سے وابسطہ رہیں ۔شادی کے بعد ناروے شفٹ ہو گئیں ۔ناروے میں جا کر بھی علم کی پیاس نا بجھی اور وہاں جا کر بھی اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔. پاکستان میں قیام کے دوران ڈاکٹریٹ کی ڈگری کا جو آغاز کیا تھا وہ سلسلہ ناروے شفٹ ہونے کی وجہ سے منقطع ھو گیا تھا وہ دوبارہ اوسلو یونیورسٹی سے شروع کیا ہے۔شائستہ حسن کہتی ہیں کہ ناروے آ کر سب سے زیادہ پریشانی کلچر کی ہوئی کیونکہ میں نے اس سے پہلے بیرون ملک نہیں گئی تھی اور کلچر میں ایڈجسٹ ہونے میں مشکلات پیش آئیں۔ناروے اور پاکستان کے کلچر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔میں یہاں آ کر بہت کچھ سیکھا۔ناروے میں انسانیت کا احترام، انسانی حقوق کی پاسداری، وقت کی پابندی، صفائی ہے۔ ناروے آکر یہاں مختلف سماجی بہبود کی تنظیموں کو جوائن کیا مثلاً” پاکستانی خواتین کے حقوق کے لیے انٹر کلچرل خواتین، سکون، ادبی دریچہ، گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن شامل ہیں۔ان تنظیمون کے ساتھ بے شمار سماجی کاموں میں اپنا حصہ ڈالا ۔ گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن کی طرف سے حال ہی میں اٹلی کے شہر میلان سولارو کی مئیر نے میری سماجی اور ادبی خدمات کے سلسلے میں اعزازی شیلڈ سے نوازا جس کے لیے میں گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اور مئیر کی انتہائی مشکور و ممنون ہوں اور ایسی مزید ادبی و سماجی خدمات کے لیے پرعزم ہوں جو تا حیات انشاءاللہ جاری ہیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں