126

دینی مدارس کو سکولوں میں بدلنے کا فیصلہ؟ بے نیام۔۔۔منصور اصغر راجہ

تقسیم ہند کے بعد ہندوستان میں پنڈت جواہر لعل نہرو کی سربراہی میں تشکیل پانے والی پہلی حکومت میں وزارتِ تعلیم کا قلمدان مولانا ابوالکلام آزادؒ کو سونپا گیا۔انہی دنوں بھارتی حکومت نے اپنے ملک میں ایک ماڈل عربی کالج بنانے کے منصوبے پر کام شروع کیا۔یہ تجویز جب مولانا آزاد ؒ کے سامنے پیش کی گئی تو انہوں نے بھی اس سے اتفاق کیا۔اگلا مرحلہ ایسے مدرسے کے انتخاب کا تھا جسے ماڈل عربی کالج میں تبدیل کیا جا سکے۔مولانا آزاد ؒ کی نگاہ میں دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنو سے زیادہ موزوں اور کوئی مدرسہ نہیں تھا کیونکہ وہاں تو ویسے بھی عربی زبان و ادب کی تدریس پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔دارالعلوم کے روحِ رواں حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کی عربی تصانیف کے باعث عالمِ عرب کے اعلیٰ علمی حلقوں میں ان کا ذکر بڑی عزت و احترام سے کیا جاتا تھا۔چنانچہ مولانا آزاد ؒ نے عربی ماڈل کالج کی سرکاری تجویز ندوہ کے اربابِ اہتمام کے سامنے رکھ دی۔اربابِ ندوہ اس حکومتی تجویز سے قطعاً متفق نہ تھے لیکن دلی سرکار نے پتّا خوب سوچ سمجھ کر کھیلا تھا کہ خود سامنے آنے کے بجائے مولانا آزادؒ کوآگے کر دیا۔ حضرت علی میاں ؒ کے الفاظ میں ”ندوۃ العلما کے ذمہ داروں کے لیے یہ موت و حیات کا مسئلہ تھا۔ندوے کے خادم اور امین اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اس تجویز کو قبول کرنے کے بعد ندوہ، ندوہ نہیں رہے گا،ایک عربی کالج بن جائے گا۔لیکن مشکل یہ تھی کہ مولانا آزاد جو ایک بزرگِ خاندان کی حیثیت رکھتے تھے، ندوہ کی تحریک کے زبردست مؤیدین میں سے تھے اور مستقل رکنِ انتظامی چلے آرہے تھے۔اس لیے مولانا کی تجویز کو یکسر رد کردینا بہت مشکل تھا“۔چنانچہ اربابِ ندوہ نے باہمی مشاورت کے بعد طے کیا کہ بارہ بنکی کے قدوائی خاندان کے چشم و چراغ، دارالمصنفین کے اولین ناظم، حضرت تھانویؒ کے مجازِ صحبت اور مولانا آزادؒ کے بے تکلف دوست مولانا مسعود علی ندوی دلی جاکر مرکزی وزیر تعلیم کے ساتھ اس مسئلے کی بابت ایسی خوش اسلوبی سے بات کریں کہ ان کے جذبے کی ناقدری بھی نہ ہو اور معذرت بھی ہو جائے۔مولانا مسعود علی ندوی نہایت ذہین،طباع، حاضر جواب،زندہ دل اور خوش گفتار آدمی تھے۔باہمی مشورے کے بعد مولانا آزاد ؒ سے ملنے کے لیے مولانا مسعود ندوی دلی پہنچ گئے۔مولانا آزاد ؒ کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے دریافت فرمایا: ”کہیے مولانا مسعود! کیسے آئے؟“۔مولانا مسعود ندوی نے جواباً کہا:”حضرت! کچھ بزرگوں کے لوح ِ مزار کی عبارت کے بارے میں آج کل خوب غور و خوض ہو رہا ہے۔مثلاً مولانا محمد علی مونگیریؒ کے مزار پر بانی ندوۃ العلما لکھنا تجویز ہوا ہے۔اسی طرح مولانا شبلی نعمانیؒ کے لوح مزار پر محسن ِ ندوۃ العلما لکھا جائے گا لیکن اندیشہ ہے کہ مستقبل میں ہمارے اور آپ کے لوح ِ مزار پر قاتل ندوۃ العلما لکھا جائے گا“۔مولانا آزاد ؒ نے اس بات پرحیران ہوتے ہوئے پوچھا:”معاملہ کیا ہے؟“۔مولانا مسعود ندوی نے کہا:”آپ نے دارالعلوم ندوۃ العلما کو عربی ماڈل کالج بنانے کی جو تجویز پیش کی ہے، اس کا انجام تو یہی ہے کہ ندو ۃ العلما ختم ہو جائے اور ہم آپ اس کے قاتل ٹھہریں،کیونکہ اب تو آپ منصبِ وزارت پر فائز ہیں۔ ندوہ کے مقصد سے اچھی طرح واقف بھی ہیں اور مؤید بھی، اس لیے آپ کی موجودگی میں تو اس کا خطرہ نہیں،لیکن آپ کے بعد کیا ہو گا، اس کی کوئی ضمانت نہیں لی جا سکتی“۔مولاناآزادؒ بڑے ذہین آدمی تھے۔ان کے لیے اتنا اشارہ ہی کافی تھا۔وہ دور تک بات کو سمجھ گئے اور فرمایا کہ آپ لوگوں کا فیصلہ درست ہے۔
مولانا عبدالرحیم رامپوریؒ بہت بڑے عالم اور مدرس تھے۔نہایت پرہیز گار اور متقی۔کتبِ درسیہ کے تو گویا حافظ تھے۔روہیل کھنڈ کے انگریزحاکم مسٹر ہاکنس نے انہیں پیش کش کی کہ وہ رام پور کو خیر باد کہہ کر بریلی تشریف لے آئیں اور بریلی کالج میں تدریس کے فرائض انجام دیں۔اس کے عوض انہیں ڈھائی سو روپے ماہانہ مشاہرہ پیش کیا جائے گا اور تھوڑے ہی عرصہ بعد اس مشاہرے میں مزید اضافہ کر دیا جائے گا۔پیش کش بہت بڑی تھی کہ اس وقت مولانا عبد الرحیم کو ریاست رام پور کی طرف سے دس روپے ماہانہ وظیفہ ملتا تھا۔مولانا نے انگریز حاکم کو براہ راست انکار کرنے کے بجائے فرمایا:
”اگر میں بریلی چلا گیا تو ریاست کی طرف سے مجھے جو دس روپے ماہوار ملتے ہیں وہ بند ہو جائیں گے“۔اس پر انگریز حاکم نے کہا:
”میں آپ کو اس سے پچیس گنا زیادہ تنخواہ پیش کرتا ہوں۔اس کے مقابلے میں اس حقیر رقم کی کیا حیثیت ہے“۔اس پر مولانا نے اگلا عذر پیش کردیاکہ میرے گھر میں بیری کا ایک درخت ہے۔اس کی بیری میٹھی اور مجھے بہت مرغوب ہے۔بریلی میں یہ بیری کھانے کو نہیں ملے گی۔اس پر مسٹر ہاکنس نے کہا کہ اس کا بھی انتظام ہو جائے گا۔آپ بریلی میں بیٹھے ہوئے بھی اپنے گھر کی یہ بیری کھا سکتے ہیں۔
”مگر میرے طالب علم جو رام پور میں مجھ سے درس لیتے ہیں، ان کا درس بند ہو جائے گا اور میں ان کی خدمت سے محروم ہو جاؤں گا۔“ مولانا نے تیسرا عذر بھی پیش کر دیا۔اس پر انگریز حاکم نے کہا: ”آپ اس بابت بھی پریشان نہ ہوں۔میں ان طلبہ کی بریلی میں رہائش کا بندوبست بھی کروں گا اور ان کے وظائف بھی مقرر کروں گا تاکہ وہ بریلی میں آپ سے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔“مولانا عبدالرحیم رامپوری نے جب دیکھا کہ انگریز حاکم ٹلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تو پھر دل کی بات کہہ ہی دی۔آپ نے فرمایا:
”یہ سب صحیح ہے لیکن کل قیامت کے دن میں اللہ کو کیا جواب دوں گا، جب وہ پوچھے گا کہ تم نے دنیا کے لیے دس روپے کے مقابلے میں ڈھائی سو روپے کو ترجیح دی۔“اس پر انگریز حاکم لاجواب ہو گیا۔واضح رہے کہ تذکرہ نگاروں میں اس پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ مولانا عبد الرحیم رامپور ی کو یہ پیش کش کس نے کی تھی۔”مجالسِ علی میاں“ کے حاشیے میں مولانا فیصل احمد ندوی بھٹکلی نے بیان کیا ہے کہ مولانا عبدالحی حسنیؒ نے ”نزھۃ الخواطر“ میں روہیل کھنڈ کے حاکم مسٹر ہاکنس کا نام لیا ہے جبکہ حکیم محمد حسین شفا رامپوری نے ”تذکرہ کاملانِ رامپور“ میں اس پیش کش کو گورنرجنرل سے منسوب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ واقعہ گورنر جنرل ہند فرانسس روڈون ہسٹنگز کے 1814ء میں دورہِ رامپور کے موقع پر پیش آیا تھا۔
ایک تاریخی روایت کے مطابق ایک ملاقات کے دوران نظام دکن نے مہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا محمد احمد نانوتویؒ سے بیان کیا کہ انہوں نے دارالعلوم سے فارغ التحصیل کچھ علما کو اپنی ریاست میں حکومتی ذمہ داریاں سونپیں تو اُن کی کارکردگی کو عصری تعلیمی اداروں کے فاضلین سے کہیں بہتر پایا۔لہٰذا کیوں نہ دارالعلوم اور ریاست حیدر آباد دکن کے مابین ایسا معاہدہ طے پا جائے کہ دارالعلوم سے ہر سال جتنے طلبہ فارغ ہوں،انہیں ریاست میں بھیج دیا جائے جہاں انہیں مختلف سرکاری مناصب پر فائز کیا جائے گا۔مہتمم صاحب نے فرمایا کہ وہ دارالعلوم کے سرپرست حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ سے مشاورت کے بعد ہی کچھ عرض کر سکیں گے۔بعدازاں جب مہتمم صاحب نے نظام دکن کی اس پیش کش کا تذکرہ حضرت گنگوہی ؒ سے کیا تو انہوں نے جواب میں فرمایا:
”مولوی صاحب!ہم بچوں کو دین کی خدمت کے لیے قرآن و حدیث پڑھاتے ہیں، نظام دکن کی ریاست کی خدمت کے لیے نہیں“۔
مولانا ابو الحسن علی ندویؒ اور ان کے بزرگ سرکاری امداد کو دینی مدارس کے لیے زہر قاتل خیال کرتے تھے کیونکہ یہ سرکاری امداد ہی بعد ازاں سرکاری مداخلت کا دروازہ کھولتی ہے۔”مجالسِ علی میاں“ میں خود حضرت علی میاں ؒ اپنے والدگرامی مولانا عبدالحی حسنیؒ کے بارے میں بیان فرماتے ہیں:”ہمارے اسلاف نے کبھی بادشاہوں اور مال داروں کا احسان قبول نہیں کیا۔حکومت سے کچھ لینا گوارا نہیں کیا۔آج دین ہم تک جو صحیح شکل میں پہنچا ہے، وہ ہمارے اسلاف کے اسی استغناکا ثمر ہے۔یہاں ندوے میں جب انگریزی تعلیم شروع کی گئی تو حکومت انگریزی کے استاد کو تنخواہ دینے کے لیے کچھ گرانٹ دیتی تھی۔لیکن ہمارے والد صاحب نے جب مدرسے کی نظامت کا چارج لیا تو اس کو بھی ختم کر دیا۔یہی بات ہے کہ آج ہمارے مدارس پوری طرح آزاد ہیں جوچاہے نصاب میں داخل کریں اور جو چاہے خارج کریں۔“واضح رہے کہ ندوۃ العلما کو یہ گرانٹ 1908 ء سے مل رہی تھی جو اگرچہ کسی تعلیمی و انتظامی مداخلت کے بغیر تھی لیکن چونکہ گورنمنٹ سے تعلق کا ایک نشان ضرور تھی،اس لیے مولانا عبدالحی ؒ کی غیرتِ ملی نے اس کو بھی گوارا نہ کیا۔
دینی مدارس چونکہ اشاعتِ دین خاص طور پر سنتِ رسولؐ کے فروغ کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔اور موجودہ پُر فتن دور میں جب کہ مغربی اور اسلامی تہذیبوں کے مابین جنگ اپنے عروج پر ہے، ان مدارس کی اہمیت و افادیت مزید بڑھ گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ مدارس باطل قوتوں کو خار کے مانند کھٹکتے ہیں۔چنانچہ ان کے خاتمے کے لیے ہر تھوڑے عرصے بعد کوئی نہ کوئی نیا منصوبہ تیار کیا جاتا ہے۔کبھی ان کے نصاب پر اعتراض کیا جاتا ہے۔گاہے انہیں دہشت گردی کے اڈے قرار دیا جاتا ہے۔موجودہ سرکار مدارس کے لیے یکساں نصابِ تعلیم پر بڑا زور دے رہی ہے۔لیکن درونِ خانہ کیا کھچڑی پک رہی ہے،اس کا انکشاف Pakistan Institute Of Conflict And Security Studies کے مینجنگ ڈائریکٹر محترم عبداللہ خان صاحب نے اپنی ایک مختصر تحریر میں کیا ہے جو اس وقت سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔”دینی مدارس کو سکولوں میں بدلنے کا فیصلہ“کے عنوان کے تحت وہ لکھتے ہیں:
”کچھ دن پہلے ایک تقریب میں ایک یورپی ملک کے سفیر نے کہا کہ دینی مدارس کو عام سکولوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے،تومیں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں اور نہ ہی ایسی کوئی حکومتی پالیسی زیر غور ہے۔لیکن حال ہی میں ایک انگریزی معاصر میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے بارے میں سینئر رپورٹر مہتاب حیدر نے اپنی exclusive خبر میں یہ انکشاف کیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے جن چودہ (14)مطالبات کو پاکستان نے جلد از جلد پورا کرنا ہے،ان میں ایک دینی مدارس کو عام سکولوں اور رفاہی اداروں میں تبدیل کرنا بھی ہے۔“اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے عبداللہ خان صاحب مزید لکھتے ہیں:”گویا ایف اے ٹی ایف کی تلوار اب دینی مدارس کے سر پر بھی لٹکنے لگی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ عمران خان تو دینی مدارس کے طلبہ کے حقوق کی بات کیا کرتے تھے۔کہیں یکساں نصابِ تعلیم کے نام پر دینی مدارس کو ختم کرنے کا پروگرام تو نہیں بن رہا؟۔یہ ہو تو نہیں پائے گا لیکن عمران خان کی حکومت کے بارے میں مولانا فضل الرحمان جن شکوک و شبہات کا اظہار کرتے رہتے ہیں،ان کو کافی تقویت ملے گی۔مجھے ابھی تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا دینی مدارس کے ساتھ کیا تعلق ہے۔وہ زیادہ سے زیادہ دینی مدارس کے مالیاتی نظام کی شفافیت پر بات کرسکتی ہے۔لیکن دینی مدارس کو ختم کرکے سکولوں میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کرنا ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔“عبداللہ خان صاحب نے اس سلسلے میں کئی سوالات اٹھائے ہیں۔وہ مزید لکھتے ہیں:”کہیں ایسا تو نہیں کہ حکومت کے اندر موجود کچھ حلقے ایف اے ٹی ایف کے کندھے پر بندوق رکھ کر دینی مدارس کے خلاف اپنا ہدف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔پہلے قوم کو یہ قوی تاثر دیا گیا کہ اگر ایف اے ٹی ایف کے مطالبات نہ مانے تو ملک کی معیشت تباہ ہو جائے گی،اور اب ایسے اقدامات ایف اے ٹی ایف کے بہانے کیے جارہے ہیں جو ملکی مفادات کے منافی ہیں۔ماضی میں پاکستان گرے اور بلیک لسٹ میں رہنے کے باوجود معاشی میدان میں ترقی کرتا رہا ہے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ ایف اے ٹی ایف کو آگے رکھ کر اور اس کا بہانہ بنا کر موجودہ حکومت یا اس حکومت میں موجود کوئی مخصوص حلقہ اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہے“۔ہم عبداللہ خان صاحب کے اس مطالبے سے کلی طور پر متفق ہیں کہ ”ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے معاملات کو شفاف طریقے سے قوم کے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔بند کمروں میں بیٹھ کر قوم کے بارے میں کیا فیصلے کیے جا رہے ہیں،اس کا علم قوم کو ہونا چاہئے۔دینی مدارس میں بہت زیادہ اصلاح کی ضرورت ہے اور میں ہمیشہ اس حوالے سے اصلاح کا وکیل رہا ہوں، لیکن دینی مدارس کو کسی بیرونی ایجنڈے کی نذر کرنا یا کسی اندرونی فاتر ذہن کی بھینٹ چڑھانا کسی طور پر بھی قوم کو قابلِ قبول نہ ہو گا۔ماضی میں کچھ حلقوں نے ختم نبوت کے معاملے کو چھیڑ کر پاکستان میں خلفشار پھیلایا۔اب دینی مدارس کے خلاف اس طرح کی خفیہ پلاننگ کرکے ایک نیا محاذ کھڑا کر دیا جائے گا۔قوم اس وقت استحکام چاہتی ہے۔لہٰذا ایسی پالیسیوں کاتدارک ضروری ہے جو انارکی پھیلانے والی ہوں۔“واضح رہے کہ ہم نے یہ کالم لکھنے سے پہلے عبداللہ خان صاحب سے رابطہ کرکے دریافت کیا کہ آیا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ تحریرانہی کی ہے تو انہوں نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا ”جی بالکل! یہ تحریر میری ہی ہے اور آپ میرے حوالے کے ساتھ اسے کہیں بھی پیش کر سکتے ہیں۔“خان صاحب کی اس تحریر نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ حکومت نے کرونا وائرس کی آڑ میں دینی مدارس و مساجد کو بند کرنے کی جس جوش و خروش سے مہم چلائی اور کئی مدارس پولیس کے ڈنڈے کے زور پر بند کرائے گئے،کہیں یہ اقدام بھی دینی مدارس کے خلاف تازہ ترین مہم کا حصہ تو نہیں؟۔سچ تو یہ ہے کہ کرونا وائرس کے ”طفیل“ وقتی طور پر ہی سہی، لیکن مدارس و مساجد میں ہر وقت قرآن مجید پڑھنے کا سلسلہ روک دیا گیا ہے۔مساجد میں رونق ماند پڑ گئی ہے۔چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کی تلاوت ِ قرآن کے صدقے بستیوں پر رحمتِ باری نازل ہوتی تھی۔باری تعالیٰ کا غصہ ٹھنڈا ہوتا تھا۔ہماری انصاف پسندتبدیلی سرکار نے ایک بیماری سے ”لڑنے“ کے لیے سب سے پہلے اس تلاوتِ قرآن کو بند کرایا ہے۔افسوس صدہا افسوس۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں