53

رجوع الی اللہ کا وقت بے نیام۔۔۔منصور اصغر راجہ

ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا کہ 1922-23میں جب برصغیر میں طاعون کی وبا پھیلی تو اُس کی تباہ کاریوں کا یہ عالم تھا کہ روزانہ ہر بستی سے کئی کئی جنازے اٹھتے تھے۔جسم پر نمودار ہونے والی گلٹی دراصل موت کا سندیسہ لاتی تھی۔چند مرد مستقل طور پر قبرستان میں ڈیرہ ڈالے رہتے۔انہیں کھانا بھی وہاں پہنچایا جاتا جو عام طور پر روٹی، پیاز اور گڑ ہوتا تھا۔وہ لوگ مسلسل قبریں کھودتے رہتے۔میّت کو دفنا کر وہیں بیٹھے بیٹھے آنسو بہا لیتے۔طاعون کا شکار بننے والے کی قبر اُ س کے مرنے سے پہلے ہی تیار کر دی جاتی۔جیسے ہی کسی کو گلٹی نکلتی تو اس کی اطلاع قبرستان پہنچا دی جاتی تاکہ قبر کھود دی جائے کیونکہ یہ طے تھا کہ وہ بندہ اب بچے گا نہیں۔ کرونا وائرس بھی ماضی کے ان وبائی امراض کی تباہ کاریوں کی تاریخ دہرا رہا ہے۔چین و ایران سے اٹلی و سپین تک ہر جگہ قیامتِ صغریٰ بپا ہے۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں خوف نے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔اٹلی میں رہائش پذیر ہمارے عزیز بتاتے ہیں کہ وہاں صرف ایک چھوٹے سے قصبے سے ہی اب تک آٹھ صد (800) جنازے اٹھ چکے ہیں۔سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی ترقی و کامیابی پر ناز کرنے والی مغربی اقوام ایک چھوٹے سے جرثومے کے ہاتھوں عاجز آ چکی ہیں۔کائنات کا خالق و مالک اپنے بندوں کو بتا رہا ہے کہ تختِ شاہی پر براجمان نمرود کو تگنی کا ناچ نچانے والا معمولی سا مچھر ہو یا پھر عصر حاضر کے ترقی یافتہ انسان کو عاجز کردینے والا کرونا وائرس، ہر شے اس کے قبضہ قدرت میں ہے اور اپنے وقوع پذیر ہونے میں اس کے امرِ کن کی محتاج ہے۔اس لیے فوری طور پر کرنے والا پہلا کام یہ ہے کہ ہم سب اپنے خالق و مالک کی طرف متوجہ ہو جائیں جس نے اس کارخانہِ عالم کو وجود بخشا، جو معبودِ حقیقی ہے، سب طاقتوں، قدرتوں اور خزانوں کا تنہا مالک ہے، تمام جہانوں کا ربّ ہے، اس کائنات کا پالنہار ہے، مالکِ روزِ جزا و سزا ہے،جس کی شہنشاہی ازل سے قائم ہے،تاابد قائم رہے گی۔اس کائنات کی ہر شے اس کی مرضی و منشا اور چاہت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔اگرچہ اس نے ایک نئے وجود کی تخلیق کو نر و مادہ کے باہم ملاپ کے ساتھ مشروط کر رکھا ہے لیکن اگر وہ چاہے تو کھنکتی ہوئی مٹی سے بادا آدم، بابا آدم کی پسلی میں سے اماں حوا،بن باپ کے حضرت عیسیٰ ؑ اور پہاڑ کے دامن میں سے حضرت صالح ؑ کی گابھن اونٹنی کو پیدا کرکے دکھا دے۔ہر شے کسی کو نفع یا نقصان دینے میں اس کے امر کی محتاج ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کہیں آگ بھڑک اٹھے تو وہ بستیاں اور جنگل جلا کر راکھ کر دیتی ہے لیکن اگر ربّ نہ چاہے تو وہی آگ حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ کے لیے گلزار بن جاتی ہے۔پانی کی تباہ کاریاں کس سے مخفی ہیں۔ہم نے 2014ء کے سیلاب کی فیلڈ رپورٹنگ کی تھی۔جھنگ شہر کے قریب دیکھا ہوا ایک ہیبت ناک منظر ہمیں آج تک یاد ہے کہ چند بھاگتی ہوئی دیہاتی خواتین حفاظتی بند پر چڑھنے کی کوشش کر رہی تھیں اور سیلابی پانی اژدھے کی مانند منہ کھولے ان کے پیچھے آ رہا تھا۔لیکن اگر ربّ نہ چاہے تو وہی ٹھاٹھیں مارتا ہوا پانی حضرت موسیٰ کلیم ؑ اور ان کے ہمراہیوں کے لیے خشک راستوں میں بدل جاتا ہے اور جب ربّ چاہے تو فرعون اور اس کے لاکھوں لشکریوں کو غرق کردیتا ہے۔چھری چاقو کا کام ہی کاٹنا ہے۔بڑے بڑے طاقتور جانوروں کی گردنیں چھری ایک ساعت میں کاٹ کر رکھ دیتی ہے لیکن اگر ربّ نہ چاہے تو وہی چھری حضرت اسماعیلؑ کی گردن کاٹنے سے انکار کر دیتی ہے،حالانکہ اسے چلانے والے بھی نبی تھے اور جن پر چلائی جا رہی تھی وہ بھی نبی تھے اور دونوں کی خواہش تھی کہ چھری چل جائے،لیکن وہ نہیں چلی کیونکہ اس کا مالک نہیں چاہتا تھا۔وہ اگر کسی کو بچانے پہ آئے تو ایسا انتظام کرتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ہجرت کی شب زمین سے آسمان تک پوری کائنات سانس روکے کھڑی تھی کہ خون کے پیاسے وجہ ِ تخلیق ِ کائناتؐکے تعاقب میں تھے۔جب کھوجی غارِ ثور کے سامنے پہنچا تو ربّ نے اپنی کمزورترین مخلوق کو وہاں پہرے پر مامور کردیا۔غار کے دھانے پر مکڑی کا جالا دیکھ کر روسائے قریش کھوجی سے الجھ پڑے کہ بندہِ خدا! ذرا دیکھ تو سہی۔یہ جالا تو محمد ؐ کی پیدائش سے بھی پہلے کا معلوم ہوتا ہے اور تو کہہ رہا ہے کہ نبیؐ و صدیقؓ اس غار میں چھپے ہوئے ہیں۔اور بے شک اس کی پکڑ بھی بڑی شدید ہے۔سیانے کہتے ہیں کہ باری تعالیٰ کی چکی بہت آہستہ چلتی ہے لیکن پیستی بڑا باریک ہے۔اس لیے ہم فوری طور پر اس کی طرف رجوع کرلیں کہ جب کسی پر بیماری آتی ہے تو شفا صرف وہی دیتا ہے۔چنانچہ موجود ہ صورتحال میں فی الفور کرنے کے کام یہ ہیں:
ہمہ وقت باوضو رہنے کی کوشش کیجیے۔
نماز اور ذکر و تلاوت کے علاوہ صبح شام کی مسنون دعاؤں کا خاص طورپر اہتمام کیجیے۔
اہل اللہ سے سنا ہے کہ کثرت ِ استغفار کے باعث رحمتِ الہٰی بڑی جلدی بندے کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔اس لیے اپنے ربّ کے سامنے اپنی نافرمانیوں اور گناہوں پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ استغفار کریں۔
سعودی عرب سے آنے والی اطلاعات کے مطابق بیت اللہ شریف کے بعد مسجد نبوی کو بھی عوام الناس کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔یقینی طور پر وہاں ملائکہ قطار اندر قطار اب بھی بارگاہِ رسالت میں درودو سلام کا ہدیہ پیش کر رہے ہوں گے،لیکن ہم جیسے عاصی تو عارضی طور پر ہی سہی،فی الحال اس سعادت سے محروم ہو گئے ہیں۔اس محرومی کے درد اور غم کواپنے دل کی گہرائیوں میں محسوس کرتے ہوئے کثرت سے درود شریف پڑھتے رہئے۔
جب تاریکی بڑھ جائے اور کسی پریشانی سے چھٹکارے کی کوئی راہ سجھائی نہ دے تو ایسے میں آیت کریمہ روشنی کا کام دیتا ہے۔مچھلی کے پیٹ کی تاریکی اور سمندر کی گہرائیوں کے اندھیرے سے نجات پانے کے لیے حضرت یونس ؐ کو یہی مبارک کلمہ عطا کیا گیا تھا۔اس لیے آیت کریمہ کے ورد کو حرزِ جاں بنا لیجے تاکہ مالکِ کائنات ہمیں اس وبا سے نجات عطا فرمادے۔
حسبِ توفیق صدقہ خیرات بھی کیجیے۔اپنے قرب و جوار میں خاص طور پر ان لوگوں کا ضرور خیال رکھیں جو روزانہ دیہاڑی لگا کر اپنے بچوں کا رزق کماتے تھے اور اب حکومتی اقدامات کے بعد اپنے گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔صدقہ بڑی بڑی بلاؤں کو ٹال دیتا ہے۔
دعا مانگتے ہوئے بخل سے کام نہ لیجیے۔اپنی دعاؤں میں صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کو یاد رکھیے اور خالق کائنات کے حضور پوری انسانیت پر رحم فرمانے کی عرضی پیش کرتے رہیے۔
خدارا! خود مفتی و مجتہد بننے کے بجائے جیّد علمائے کرام کی ہدایات و نصائح پر توجہ دیجیے۔
غیر ضروری طور پر گھر سے باہر مت جائیے اور حکومتی ہدایات اور احتیاطی تدابیر پر عمل کیجیے۔
اگر باری تعالیٰ توفیق دیں تو پریشانی کے ان چند دنوں میں روحانی طور پر بڑا فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔بس دل میں طلب ہونی چاہئے اور طلب رکھنے والوں کو وہ کبھی بھی خالی واپس نہیں لوٹاتا ۔
یاد رہے کہ حکومت اور ماہرینِ طب جن احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں،ان کی تعلیم تو خود محسنِ انسانیت ؐ نے فرمائی ہے۔بجا کہ مصافحہ کرنا سنت ہے لیکن موجودہ حالات میں مصافحہ نہ کرنا سنت ہے۔بنو ثقیف کا وفد جب بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تو اُس میں جذام (کوڑھ) کا ایک مریض بھی شامل تھا۔آپؐ نے اس آدمی کو اس کے مقام سے ہی واپس لوٹا دیا۔اس سے مصافحہ کیا نہ عملاً بیعت کی اور نہ ہی سامنا کیا (صحیح مسلم،حدیث:2231)۔
بعض لوگوں کا یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں ہے کہ ایمان کے ہوتے ہوئے احتیاط کی بھلا کیا ضرورت۔ارشادِ نبوی ہے کہ کوڑھی سے یوں بھاگو جیسے شیر سے (خوفزدہ ہو کر)بھاگتے ہو (صحیح بخاری،حدیث:5707)۔کیا اس سے ہمیں یہ تعلیم نہیں ملتی کہ وائرس سے متاثر لوگوں سے بچنا بھی سنت ہے؟
لاریب کہ توکل علی اللہ مومن کی صفتِ خاص ہے۔لیکن آقائے کریمؐ کا فرمانِ گرامی ہے کہ پہلے اونٹ کا گھنٹہ باندھو اور پھر توکل کرو (جامع ترمذی،حدیث:2517)۔گویا اسباب اختیار کرنا بھی توکل ہے۔اسباب سے بے نیازی توکل نہیں ہے اور احتیاطی تدابیر بھی اسباب کے زمرے میں ہی آتی ہیں۔یاد رہے کہ ہمارا ایمان،تقویٰ اور توکل اصحابِ رسول سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔لیکن دورِ فاروقی میں شام میں طاعون کی وبا پھیلی کہ امیر المومنین سیدنا عمر فاروقؓ نے وہاں جانے سے گریز فرمایا کیونکہ اُس وقت احتیاط کا تقاضا یہی تھا۔اس لیے براہِ کرم احتیاطی تدابیر پر خود بھی عمل کیجئے اور اپنے بچوں سے بھی عمل کرائیے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انہیں سرعام مرغا نہ بنانا پڑے۔واضح رہے کہ یورپی اقوام ان احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کر رہی ہیں۔اِ س وقت ہمارے اماں ابا پیرس میں ہیں۔چھوٹے ماموں انگلینڈ اور ان کے بچے سپین میں ہیں۔وہ بتاتے ہیں کہ وہاں حکومتیں لاک ڈاؤن پر کیسے عملدرآمد کرا رہی ہیں۔صرف اشیائے خورونوش اور فارمیسی کھلی ہے۔سٹور میں خریداری کے لیے ایک وقت میں صرف چار یا پانچ آدمی داخل ہو سکتے ہیں۔دوائیں لینے کے لیے میڈیکل سٹور میں ایک وقت میں صرف ایک آدمی کو جانے کی اجازت ہے۔چند روز پہلے پیر س میں کئی دنوں کے بعد دھوپ نکلی تو شہری موسم کا مزا لینے کے لیے گھروں سے باہر نکل آئے۔فرانسیسی صدر نے اس غیر سنجیدہ حرکت کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بیان جاری کیا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ گلیو ں میں موت سرعام گھوم رہی ہے اور یہ موسم کا مزا لے رہے ہیں۔انہوں نے فی الفور حکم جاری کیا کہ بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے والے شہری کو 135یورو جرمانہ کیا جائے۔تازہ اطلاع کے مطابق جو پندرہ دن میں دو مرتبہ گھر سے باہر نکلے گا،اسے پندرہ سو(1500)یورو جرمانہ ہو گا اور جو مہینے میں چار مرتبہ اس لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرے تو اسے چھ ماہ قید کی سزا اور سینتیس سو(3700) یورو جرمانہ ہو گا۔اسی طرح سپین میں پولیس گلیوں میں مسلسل گشت کر رہی ہے۔کسی بھی شہری کو بلاضرورت گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں۔حکومت پاکستان کو بھی اس قسم کے سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔ہمیں بھی حکومتی ہدایات پر عمل کرکے اپنے زندہ قوم ہونے کا ثبوت دینا چاہئے۔باری تعالیٰ ہم سب کو ہر طرح کی مخلوقا ت کے ہر طرح کے شرور سے پناہ عطا فرمائے۔ حسبِ توفیق صدقہ خیرات بھی کیجیے۔اپنے قرب و جوار میں خاص طور پر ان لوگوں کا ضرور خیال رکھیں جو روزانہ دیہاڑی لگا کر اپنے بچوں کا رزق کماتے تھے اور اب حکومتی اقدامات کے بعد اپنے گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔صدقہ بڑی بڑی بلاؤں کو ٹال دیتا ہے۔
دعا مانگتے ہوئے بخل سے کام نہ لیجیے۔اپنی دعاؤں میں صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کو یاد رکھیے اور خالق کائنات کے حضور پوری انسانیت پر رحم فرمانے کی عرضی پیش کرتے رہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں