36

وطن عزیز پاکستان میں کسی بھی قوت کو انتشار پیدا نہیں کرنے دیں گے ۔ بین المسالک ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے : طاہر اشرفی

راولپنڈی (پاسبان نیوز)وطن عزیز پاکستان میں کسی بھی قوت کو انتشار پیدا نہیں کرنے دیں گے ۔ بین المسالک ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ پاکستان میں رہنے والے غیر مسلموں کے حقوق کی حکومت اور مسلمان محافظ ہیں ۔ متحدہ علماء بورڈ کے ضابطہ اخلاق پر عمل کروایا جائے گا۔ کسی کو کسی بھی مکتبہ فکر کے مقدسات کی توہین نہیں کرنے دی جائے گی ۔ پیغام پاکستان کو قانونی شکل دینے کیلئے فوری مشاورت شروع کی جائے ۔تمام مذاہب و مکاتب فکر کے قائدین کا مشترکہ اجلاس آئندہ ہفتے کو بلایا جائے گااور جدوجہد فلسطین و کشمیر کانفرنس ان شاء اللہ آئندہ ہفتے اسلام آباد میں ہو گی۔ یہ بات چیئرمین پاکستان علماء کونسل و متحدہ علماء بورڈ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے عید گاہ شریف راولپنڈی میں علماء و مشائخ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اجلاس کی صدارت پیر نقیب الرحمن نے کی ۔ اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہاکہ وطن عزیز پاکستان میں ہندوستانی خفیہ ادارہ راء شیعہ سنی فسادات چاہتا ہے ۔علماء اور ذاکرین کے روپ میں بعض لوگ اصحاب رسول ؐ و اہل بیت ؓ کی توہین کر رہے ہیں۔ ایسے افراد کے خلاف قانون حرکت میں آیا ہے اور مقدسات کی توہین کرنے والوں کے خلاف قومی ایکشن پلان اور دہشت گردی ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ علماء وطن عزیز پاکستان کے نظریاتی محافظ ہیں اور پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام اور دفاع کیلئے ہم ملک کی سلامتی کے اداروں اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج فلسطین سے کشمیر تک مسلمان ذبح ہو رہے ہیں اور ارض حرمین شریفین پر حملے ہو رہے ہیں ان سب مسائل کا حل وحدت امت میں ہے اور وحدت امت سے ہی ان مسائل سے نمٹا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور بعض پاکستان دشمن قوتیں یہ پراپوگنڈہ کر رہی ہیں کہ پاکستان میں غیر مسلموں کو حقوق حاصل نہیں ہیں۔آئین پاکستان اور شریعت اسلامیہ غیر مسلموں کے حقوق کے محافظ ہیں ، پاکستان میں رہنے والے غیر مسلموں کو کسی گروہ ، جتھہ یا جماعت سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ نے اس موقع پر متحدہ علماء بورڈ کی طرف سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کی توثیق کی:
ضابطہ اخلاق
۱۔ مذہب کے نام پر دہشت گردی، انتہا پسندی ، فرقہ وارانہ تشدد ، قتل و غارت گری خلاف اسلام ہے اور تمام مکاتب فکر اور تمام مذاہب کی قیادت اس سے مکمل اعلان برأت کرتی ہے۔
۲۔ کوئی مقرر ، خطیب ، ذاکر یا واعظ اپنی تقریر میں انبیاء علیہ السلام ، اہل بیت اطہار ؓ ، اصحاب رسول ؓ ، خلفائے راشدین ؓ ، ازواج مطہرات ؓ ، آئمہ اطہار اور حضرت امام مہدی کی توہین نہ کرے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو تمام مکاتب فکر اس سے اعلان برأت کرتے ہیں۔
۳۔ کسی بھی اسلامی فرقے کو کافر قرار نہ دیا جائے اور کسی بھی مسلم یا غیر مسلم کو ماورائے عدالت واجب القتل قرار نہ دیا جائے اور پاکستان کے آئین کے مطابق تمام مذاہب اور مسالک کے لوگ اپنی ذاتی اور مذہبی زندگی گزاریں۔
۴۔ شر انگیز اور دل آزار کتابوں ، پمفلٹوں ، تحریروں کی اشاعت ، تقسیم و ترسیل نہ ہو ، اشتعال انگیز اور نفرت آمیز مواد پر مبنی کیسٹوں اور انٹر نیٹ ویب سائیٹوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے ۔ دل آزار اور نفرت آمیز اور اشتعال انگیز نعروں سے مکمل اعراض کیا جائے گا اور آئمہ ، فقہ ، مجتہدین کا احترام کیا جائے اور ان کی توہین نہ کی جائے۔
۵۔ عوامی سطح پر مشترکہ اجلاس منعقد کر کے ایک دوسرے کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔
۶۔ پاکستان میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم بھی رہتے ہیں ، لہذا شریعت اسلامیہ کی رو سے غیر مسلموں کی عبادت گاہوں ، ان کے مقدسات اور ان کی جان و مال کا تحفظ بھی مسلمانوں اور حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے ، لہذا غیر مسلموں کی عبادت گاہوں ، ان کے مقدسات اور ان کیے جان و مال کی توہین کرنے والوں سے بھی سختی کے ساتھ حکومت کو نمٹنا چاہیے ۔
۷۔ حکومت قومی ایکشن پلان پر بلا تفریق مکمل عمل کرائے ۔
۸۔ پیغام پاکستان ایک متفقہ دستاویز ہے جس کو قانونی شکل دینے کیلئے فوری طور پر مشاورتی عمل شروع کیا جائے۔
۹۔ شریعت اسلامیہ میں فتویٰ کو انتہائی اہمیت حاصل ہے ، قرآن و سنت کی روشنی میں دیا جانے والا فتویٰ ہی معتبر ہو گا ، قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف دئیے جانے والے فتووں پر فوری ایکشن لیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں