61

نوجوان طالب علم کے بعد خاتون صحافی کا قتل بلوچستان کو انارکی میں دھکیلنے کی کوشش ہے۔ جماعت اسلامی خواتین  قتل کے محرکات بے نقاب اور ملوث عناصر کو سخت سزا دی جائے، مرکزی سیکریٹری جنرل دردانہ صدیقی کا مطالبہ  

کراچی07 ستمبر (صائمہ افروز ) جماعت اسلامی پاکستان حلقہ خواتین کی مرکزی سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی نے بلوچستان میں خاتون صحافی اور انسانی حقوق کی کارکن شاہینہ شاہین بلوچ کے بہیمانہ قتل پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس ظالمانہ کارروائی کی بھرپور مذمت کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ چند ہفتوں قبل نوجوان طالبعلم حیات بلوچ اور اب خاتون صحافی شاہینہ شاہین کے قتل سے محسوس یوں ہوتا ہے کہ سوچی سمجھی سازش کے تحت بلوچستان کو انارکی جانب دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقتولہ ایک باصلاحیت نوجوان تھی اور وہ بلوچستان کی بچیوں کے لیے بہت کچھ کرنے کا عزم رکھتی تھی مگر اس کے خوابوں سمیت اس کی آنکھوں کو بند کردیا گیا جو کسی طور قابل برداشت نہیں۔ کسی قوم کے نام پر نہیں بلکہ پاکستان کی ایک بیٹی کی حیثیت سے وہ ہم سب کا اثاثہ تھی اور اس کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری تھی جس میں وہ ناکام رہی۔ انہوں نے شاہینہ شاہین کے اہل خانہ سے مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس گھناؤنے عمل کے پیچھے چھپے محرکات کو بے نقاب کیا جائے اور قتل میں ملوث عناصر کو عبرتناک سزا دی جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں