62

سانحہ گجرپورہ سمیت تمام زنا کے کیسز میں DNA کی گواہی قابل قبول سمجھتے ہوئے عدالتیں فوری سزائیں دیں: حافظ محمد طاہر محمود اشرفی صدر دارالافتاء پاکستان زیادتی خواہ بچوں سے ہو یا بچیوں سے مجرموں کو سر عام سزا دینی چاہیے : دارالافتاء پاکستان

لاہور(عزیزالرحمن مجاہد سے)
سانحہ گجرپورہ سمیت تمام زنا کے کیسز میں DNA کی گواہی قابل قبول سمجھتے ہوئے عدالتیں فوری سزائیں دیں،زیادتی خواہ بچوں سے ہو یا بچیوں سے مجرموں کو سر عام سزا دینی چاہیے ۔ یہ بات چیئرمین پاکستان علماء کونسل و صدر دارالافتاء پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے دارالافتاء پاکستان کے اجلاس کے بعد مشترکہ فتویٰ جاری کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان قرآن و سنت کے تابع ہے ۔ قرآن و سنت کے احکامات کے مطابق سنگسار اور کوڑوں کی سزا سر عام دئیے جانے کا حکم ہے ۔ DNA ٹیسٹ ایک نئی اور جدید تحقیق ہے لہذا زنا بالجبر ، بچوں اور بچیوں کے ساتھ ریپ کے کیسز میں DNA ٹیسٹ کی رپورٹ کو عدالت گواہی تسلیم کرتے ہوئے اسپیڈی ٹرائل کے تحت مقدمات کی سماعت کرے اور اپیل کی سماعت کیلئے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے جج صاحبان متعین کیے جائیں جو 24 گھنٹے میں اپیل کی سماعت کر کے فیصلہ صادر کریں اور جہاں پر زیادتی کی گئی ہے وہاں سر عام مجرموں کو سزا دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان علماء کونسل ملک گیر تحریک شروع کر رہی ہے کہ زیادتی کے مجرمین کو سر عام سزائیں دی جائیں۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ خود لاہور میں آئیں اور اس وقت تک لاہور سے نہ جائیں جب تک مجرمین کو سزائیں نہ مل جائیں۔ اس موقع پر مفتی عمرفاروق ، مفتی فلک شیر ، مولانا محمد اشفاق پتافی ، مولانا اسلم صدیقی ، مولانا اسد اللہ فاروق اور دیگر بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں