106

عورت ہونا کیا آج بھی جُرم ہے؟

عورت ہونا کیا آج بھی جُرم ہے؟
پہلے کمرشلز میں عورت شو پیس بنائی جاتی تھی
آج کیسز کو چھپانے کیلئے کبھی ریپ، کبھی تنظیم سازی اور کبھی کچھ اور …..
آخر عورت ہی کی کردار کشی کیوں؟
کیا ہمارے سیاستدان، حکمران، افواج، حتی کہ عام لوگ اسقدر بے حس، بے غیرت اور بے حیا ہو چکے ہیں کہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں. کم از کم عورت کو تو بخش دیا جائے. کل سے دیکھ رہی ہوں کہ حکمران طبقہ بڑھ چڑھ کر اپوزیشن کو جوتے مارنے کیلئے سارے کام چھوڑ کر صرف “تنظیم سازی” کا ٹرینڈ لیکر چل رہے ہیں اور یہی لوگ سب سے بڑے بے غیرت ہیں. مہذب اقوام ہوں یا قبائل یا کوئی خاندان، معاملہ عورت کا ہو تو نہایت خاموشی اور رازداری اختیار کی جاتی ہے…. کم از کم خاتون کا نام نہیں اُچھالا جاتا. لیکن یہاں وطنِ عزیز “اسلامی جمہوریہ پاکستان” میں، ریاستِ مدینہ میں روز ایک نیا ٹرینڈ بنام عورت شروع کیا جاتا ہے اور ہمارے سوشل و الیکٹرانک میڈیا کے مہربان دھڑادھڑ اس ٹرینڈ کو وائرل کر کے اپنی ریٹنگ بڑھا کر جانے کتنے ہزار نفل کا ثواب کماتے ہیں. اِس نام نہاد ریاستِ مدینہ میں سب سے مہنگا سانس لینا ہے اور سب سے زیادہ سستی ہے عورت کی عِزّت. گو کہ یہ سب پچھلے ادوار میں بھی تھا لیکن آج سوشل میڈیا کا دور ہے جس میں ایک منٹ میں آپ اونچائی پر جا سکتے ہیں اور اگلے لمحے میں دھڑام سے نیچے بھی گر سکتے ہیں. آج کوئی بھی بات وائرل کرنے سے پہلے زیادہ شعور کی ضرورت ہے کہ آج کی ہر پوسٹ کمان سے نکلا وہ تیر اور منہ سے نکلی ہوئی وہ بات ہے جو واپس نہیں ہو سکتے. حتی کہ خواتین بھی اس کارِخیر میں زور شور سے شریک ہیں گویا کہ اُنھیں یہ بھی اِدراک نہیں کہ وہ اپنی ہی ہم صِنف کو رُسوا کر رہی ہیں. وقت آ گیا ہے کہ توہینِ افواج اور توہین عدالت کی طرز پر توہین عورت کے لئے بھی سخت قوانین بنائے جائیں اور ان پر سختی سے عمل درآمد بھی کیا جائے. ریپ، تشدد اور قتل کے علاوہ کِردار کُشی کو بھی عورت کا استحصال سمجھا جائے. ماں بہن کی غلیظ گالی پر جرمانے کیے جائیں، غلیظ نظروں سے دیکھنے کو جنسی تشدد کا درجہ دیا جائے اور سزا مقرر کی جائے. عورت کے تنہا سفر کرنا تو کجا تنہا گھر میں بھی محفوظ نہیں اور اب تو گھر والوں کی موجودگی میں بھی بھیڑیے آ کر اسے بھنبھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور ضمیر فروش پولیس مقدمہ درج کرنے سے انکاری ہوتی ہے…. اُلٹا خاتون کے باپ بھائی کو اتنا تنگ کیا جاتا ہے کہ لڑکی اپنی ہی جان لے لیتی ہے اور شہباز گِل اور فواد چوہدری جیسے بڑبولوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی کیونکہ ظلم کا شکار ایک عام سی لڑکی ہے جبکہ اپوزیشن کو ذلیل کرنے کے لیے ایک اپوزیشن کارکن کی عزت کی دھجیاں اُڑانے کی فکر انکی نیند اُڑانے کیلئے کافی ہے کہ اب ترپ کا پتہ کہاں اور کیسے کھیلنا ہے…. یہی کام کسی حکومتی جماعت کے کارکن کا ہوتا تو سب کچھ چھپا لیا جاتا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں