46

ملک بھر میں بین المذاہب ہم آہنگی کو نسلیں بنائیں گے: طاہر محمود اشرفی

لاہور (خصوصی نامہ نگار‘پاسبان رپوٹ) یورپین مسلم فورم کے زیر اہتمام ’’وحدت امت کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور معاون خصوصی برائے وزیر اعظم پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے مسئلہ فلسطین وکشمیر کو امت مسلمہ کے بنیادی مسائل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین اور کشمیر کے مسئلہ کے حل کیلئے مسلم ممالک کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں، پاکستان مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ اس امر کا اظہار انہوں نے ویڈیو لنک زوم کے ذریعے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان مسلم امہ کی وحدت اور اتحاد چاہتا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم کو مزید مضبوط بنانے اور موثر بنانے کیلئے مسلم ممالک کو تعاون کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ الاقصیٰ مسلمانوں کا مقدس ترین مقام ہے۔ الاقصیٰ میں مسلمانوں کے جانے اور نہ جانے کا فیصلہ اسلامی دنیا کو کرنا ہے۔ ہم فلسطینیوں کی مرضی کے مطابق ایک آزاد خود مختار ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔ اسی طرح ہم کشمیریوں کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل چاہتے ہیں۔ دریں اثناء ایک انٹرویو میں چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ وزیراعظم کا خیال یہ ہے کہ بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کو بہترانداز میں گراس روٹ لیول سے آرگنائز کیا جائے۔ ایک یہ ہے اور دوسرا جو ہمارے پاکستانی بھائی بیرونی اور اسلامی دنیا میں ہیں‘ اسلامی ممالک سے ہمارے جو تعلقات ہیں ان میں مزید بہتری لائی جائے۔ انہوں نے کہا میرا ٹارگٹ نہ تو مولانا فضل الرحمن، نہ میں نے سوچا ہے۔ وہ ایک سیاسی مذہبی لیڈر ہیں۔ ان کا ایک اپنا نکتہ نظر ہے۔ اگر مولانا فضل الرحمن کا نواز شریف کا حلیف ہونا جرم نہیں تو میرا عمران خان کا حلیف ہونا جرم کیوں ہے۔ جو مجھے ذمہ داری دی گئی اس میں بین المذاہب ہم آہنگی ہے۔ اسلامی اور عرب ممالک، خلیجی ممالک وہاں پاکستانیوں اور ان سے تعلقات میں بہتری لانا ہے۔ انشاء اللہ یہ ہو گی اور آپ دیکھیں گے میرے پاس چھ ماہ کا ایک منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح بین المذاہب ہم آہنگی ہے، ہم یونین کونسل سے لے کر مرکز تک بین المذاہب ہم آہنگی کونسلز بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرا جو پہلا ہدف ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے جو پاکستانی خلیجی اور اسلامی ممالک میں مقیم ہیں ان کو جو مشکلات ہیں وہ کیسے کم کرنی ہیں اور ان کا اور وہاں کی حکومت یا لیبر ڈیپارٹمنٹ ان کے درمیان فاصلے کیسے کم کیے جائیں، ان کی مشکلات کو کیسے کم کرنا ہے۔ مزید ان کا کہنا تھا کہ جو وہاں ہمارے بڑے بڑے تاجر ہیں، پاکستانی کاروباری لوگ ہیں، جو یہاں کروڑوں ڈالر بھیج رہے ہیں ان کی مشکلات کو کیسے حل کرنا ہے۔ آج بھی میں کہتا ہوں جب یہاں مولانا فضل الرحمن صاحب یہاں دھرنا لے کر آئے تو میں نے اس وقت بھی کہا اور جب عمران خان صاحب نے دھرنا دیا تھا میں نے اس وقت بھی کہا کہ مسائل ٹیبل پر بیٹھ کر حل ہوتے ہیں، مسائل جو ہیں وہ توڑ پھوڑ سے یا بلوے سے حل نہیں ہوتے۔ اگر آپ ہدف رکھیں تو عمران خان کو اور نشانہ آپ کا پاکستان کے سلامتی کے ادارے اور فوج ہوں تو اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں نہ غداری کے نعرے لگنے چاہئیں اور ناں ہی قومی سلامتی کے اداروں اور فوج کے خلاف نعرے لگنے چاہئیں، دونوں ہی درست نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں