42

مولانا عادل خان کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے گا، ملک کے اندر دہشت گردی اور انتہا پسندی پھیلانے والے عناصر کا محاسبہ ہو گا، توہین و تکفیر کرنے والے عناصر کے خلاف کاروائی ہو گی انٹر فیتھ ہارمنی کونسلز درست سمت قدم ہے چیئرمین پاکستان علماء کونسل و معاون خصوصی وزیر اعظم پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی وفاقی وزیر داخلہ برگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ سے ملاقات

لاہور(پاسبان نیوز)مولانا عادل خان کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے گا، ملک کے اندر دہشت گردی اور انتہا پسندی پھیلانے والے عناصر کا محاسبہ ہو گا، پاکستان دشمن قوتیں ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازشیں کر رہی ہیں۔ یہ بات وفاق وزیر داخلہ برگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ نے چیئرمین پاکستان علماء کونسل و معاون خصوصی وزیر اعظم پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی سے ملاقات کے دوران کہی ۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام میں تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ کے تعاون سے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا گیا۔گذشتہ رات ممتاز عالم دین مولانا عادل خان کی قتل افسوسناک اور قابل مذمت ہے اور مجرموں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا عادل خان ایک عظیم عالم دین تھے اور ان کی اسلام اور مسلمانوں کیلئے خدمات قابل قدر تھیں۔ برگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ نے کہا کہ پاکستان دشمن قوتیں پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا چاہتی ہیں اور ملک میں فرقہ وارانہ فسادات چاہتی ہیںجنہیں باہمی اتحاد سے ہمیں ناکام بنانا ہے ۔ چیئرمین پاکستان علماء کونسل و معاون خصوصی وزیر اعظم پاکستان حافظ محمد طاہر محمو داشرفی نے کہا کہ مولانا عادل خان کے قاتل فوری گرفتار کیے جائیں اور جن مجرموں نے محرم الحرام سے قبل ملک میں توہین و تکفیر کی ہے ان کو گرفتار کیا جانا چاہیے ۔ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے وفاقی وزیر داخلہ کو ملک میں انٹرفیتھ ہارمنی کونسل کے قیام کے سلسلہ میں آگاہ کیا اور وفاقی وزارت داخلہ کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا ۔ وفاقی وزیر داخلہ برگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ نے کہا کہ توہین و تکفیر کرنے والے مجرموں کی اکثریت گرفتار ہو چکی ہے اور جو باقی ان کو بھی گرفتار کیا جائے گا اور قرار واقعی سزا دی جائے گی ۔ انہوں نے انٹرفیتھ ہارمنی کونسل کے سلسلہ میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ انٹرفیتھ ہارمنی کونسل کے قیام سے ملک میں بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی اور رواداری میں اضافہ ہو گا اور مسائل کو لوکل سطح پر حل کرنے میں مدد ملے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں