44

عرب اسلامی ممالک میں رہنے والے پاکستانیوں کے مسائل کا حل اور بہتر تعلقات اولین ترجیح ہے :طاہراشرفی

لاہور(پاسبان نیوز)انتہا پسندی ، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے کیلئے مختلف مسالک اور مذاہب کے درمیان مکالمہ کی ضرورت ہے ۔ آئمہ ، خطباء ، اساتذہ کیلئے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق تربیتی نشستوں کا اہتمام ہونا چاہیے ، نصاب میں مذہبی رواداری کے مضامین شامل کیے جائیں گے۔ انٹرفیتھ ہارمنی کونسل میں تمام مذاہب اور مسالک کے نمائندوں کو شامل کریں گے ۔ پاکستان میں ناموس رسالت ؐ کے قانون کاغلط استعمال کافی حد تک رُک گیا ہے ۔ انٹرفیتھ ہارمنی کونسلز کے قیام سے توہین کے غلط مقدمات کا اندراج ختم ہو جائے گا۔ تحفظ ناموس رسالتؐ کا قانون انسانوں کی جانوں کا محافظ ہے ۔ پاکستان میں اقلیتوں کے نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر ہر ممکن بہتری کی کوشش کریںگے۔ عرب اسلامی ممالک میں رہنے والے پاکستانیوں کے مسائل کا حل اور بہتر تعلقات اولین ترجیح ہے ۔ یہ بات چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور معاون خصوصی وزیر اعظم پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے اسلام آباد میں مختلف مکاتب فکر کے علماء و مشائخ اور ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام جبر کی بنیاد پر کسی کو مسلمان نہیں بناتا ، اسلام امن سلامتی اور رواداری کا دین ہے ۔ پاکستان علماء کونسل ماہ ربیع الاول کو پیغام رحمۃ للعالمین ﷺ امن ، محبت اور رواداری کے طور پر منائے گی ۔ ملک بھر میں اجتماعات میں امن ، محبت ، وحدت اور رواداری ، سیرت طیبہ ؐ کی روشنی میں بیان کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں رہنے والے غیر مسلموں کو آئین اور قانون نے تمام حقوق دئیے ہیں ، کسی بھی گروہ یا جتھے کو ان کے حقوق سلب کرنے نہیں دئیے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کیلئے مکالمہ ہی بہترین راستہ ہے ۔ وزیر اعظم کے حکم سے ملک بھر میں بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کونسل بنائی جائیں گی جس سے ملک کے اندر محبت اور رواداری کی فضا کو تقویت ملے گی۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گذشتہ دو سالوں کے دوران توہین ناموس رسالتؐ کے کیسوں کے اندراج میں کمی ہوئی ہے ۔ مختلف مکاتب فکر کے علماء اور مذاہب کے نمائندوں کے تعاون سے توہین رسالت ؐ کے نام پر غلط مقدمات کے اندراج کو روکا گیا ہے اور انٹرفیتھ ہارمنی کونسلز کے قیام سے غلط مقدمات کا اندراج ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اسلام دشمن قوتیں مولانا عادل خان کے قتل میں ملوث ہیں جن کو بے نقاب کیا جائے گا اور مجرموں کو گرفتار کیا جائے گا۔ حکومت پاکستان کے پاس شواہد ہیں کہ بھارت اور پاکستان دشمن قوتیں ملک میں فرقہ وارانہ فسادات چاہتی ہیں۔باہمی اتحاد سے ہم نے ماضی میں بھی ان کو ناکام بنایا ہے اور آئندہ بھی ناکام بنائیں گے ۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اسلامی اور عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کی مزید بہتری کیلئے کوشاں ہیں۔سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور دیگر اسلامی عرب ممالک میں معمولی جرائم میں قید پاکستانیوں کی رہائی کیلئے کوششیں ہو رہی ہیں،اُمید ہے کہ یہ کوششیں کامیاب ہوں گی۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم امہ کی وحدت اور اتحاد کیلئے پاکستان کا کردار بہت اہم ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان ذاتی طور پر مسلم امہ کی وحدت اور اتحاد کیلئے کوشاں ہیں۔ مسلم امہ کی وحدت اور اتحاد ہی مسئلہ کشمیر اور فلسطین حل کر سکتے ہیں۔

2 Attachments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں