45

مولانا عادل خان کے قاتلوں کی گرفتاری حکومت کیلئے چیلنج ہے ، ان شاء اللہ مولانا عادل خان کے قاتل گرفتار ہوں گے :طاہر اشرفی

لاہور(عزیزالرحمان مجاہد سے)مولانا عادل خان کے قاتلوں کی گرفتاری حکومت کیلئے چیلنج ہے ، ان شاء اللہ مولانا عادل خان کے قاتل گرفتار ہوں گے ۔ ملک میں بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ، توہین و تکفیر کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر ختم ہونا ضروری ہے۔ عرب اسلامی ممالک سے تعلقات بہت بہتر ہیں ۔ ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے سب ایک ہیں۔ پُرامن جلسے جلوس ، سیاسی ومذہبی جماعتوں کا حق ہے ۔ مولانا عادل خان کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے پُرامن احتجاج علماء اور عوام کا حق ہے ۔ یہ بات چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور صدر قومی یکجہتی کونسل پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے لاہور میں مختلف مکاتب فکر کے علماء و مشائخ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ، اس موقع پر مولانا محمد خان لغاری ، علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ، علامہ سید کاظم رضا ، مولانا محمد شفیع قاسمی ، مولانا اسد اللہ فاروق ، علامہ زبیر عابد ، مولانا ضیاء اللہ سیالوی ، علامہ یونس حسن ، علامہ طاہر الحسن موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمام مذاہب اور مسالک کے لوگوں کو آئین اور قانون کے مطابق حقوق حاصل ہیں ۔ کسی بھی شہری کے حقوق کو کوئی جماعت یا گروہ غصب نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا عادل خان کے قاتلوں کی گرفتاری حکومت کیلئے چیلنج ہے ۔ مولانا عادل خان کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے پُرامن احتجاج علماء اور عوام کا جہوری حق ہے جسے کسی کو نہیں روکا جانا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ وہ دو روزہ دورے پر کراچی جا رہے ہیں جہاں تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ سے ملیں گے اور ملک کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے ۔ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں عرب اسلامی ممالک سے تعلقات بہتر ہوئے ہیں او رمستقبل میں یہ تعلقات مزید بہتر ہوں گے ۔ ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ حزب اختلاف کا حق ہے کہ وہ جلسے جلوس کریں ، حکومت نے جلسہ کی اجازت دے دی ہے ۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پُرامن انداز میں جلسہ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی رہنمائوں کی طرف سے دوسری جماعتوں کے قائدین کے بارے میں توہین آمیز زبان کا استعمال افسوسناک ہے، سیاسی قائدین کو بھی رواداری اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں