78

گوجرانوالہ میں جو کہا گیا ہمیں اس کا پہلے سے پتہ چل رہا تھا اگر غدار ان پاکستان میدان میں آرہے ہیں تو وفاداران پاکستان کو بھی میدان میں آنا چاہیے، جمہوریت جمہوریت کی بات کرنے والے اپنی جماعتوں میں جمہوریت نہیں لاسکے:طاہر اشرفی

لاہور(پاسبان نیوز) ضیاءالحق شہید فاﺅنڈیشن کے زیراہتمام ہونے والی ”استحکام پاکستان“ کانفرنس میں مقررین نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا بیانیہ ،گستاخی کبھی اپنی فوج کے خلاف نہیں سنا جو زبان نواز شریف نے استعمال کی، ایسی جرات ہندوستان کے وزیر اعظم کو بھی نہیں ہوئی۔ الحمرا لاہور میں ہونیوالی کانفرنس کی صدارت مسلم لیگ (ض)کے سربراہ اعجازالحق نے کی اور اپنے خطاب میں میاں نوازشریف کوشد ید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اپنی فوج کے خلاف جو زبان نواز شریف نے استعمال کی، ایسی جرات ہندوستان کے وزیر اعظم کو بھی نہیں ہوئی یہ بیانیہ اٹھانا پاکستان کے لئے بہت مشکل ہے۔کانفرنس سے ڈاکٹر انوارالحق، عبداللہ گل، مولانا طاہر اشرفی ، مفتی احمد علی ثانی، معروف دفاعی تجزیہ نگار جنرل (ر) غلام مصطفے ملک رشید،اسماعیل قریشی،حاجی یاسین،نعیم بادشاہ، سید ضیاءاللہ شاہ بخاری،عبدالغفور میو سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی طاہر اشرفی نے کہا کہ دودن پہلے جو گوجرانوالہ میں کہا گیا ہمیں اس کا پہلے سے پتہ چل رہا تھا اگر غدار ان پاکستان میدان میں آرہے ہیں تو وفاداران پاکستان کو بھی میدان میں آنا چاہیے، جمہوریت جمہوریت کی بات کرنے والے اپنی جماعتوں میں جمہوریت نہیں لاسکے۔سب سے بڑے لوٹے تو آپ ہیں۔آئے جنرل ضیا ءکے نام پر پھر کہاں کہاں گئے۔ملاقاتوں کی بات کرتے ہو تو تم ایک فون پر اسلام آباد خوشی خوشی گئے تم اگر پاک فوج کی طرف دیکھو تو تمہیں قوم کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میاں نواز شریف اور شہباز شریف کہتے ہیں کہ حساب لیں گے اگر حساب کی بات ہے تو آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے جوہر ٹاون کے پلاٹ کہاں کہاں گئے اس کا بھی حساب دو تمہیں تو جسٹس قیوم جیسے جج چاہیے نواز شریف ہم تمہیں فوج پر حملہ آور نہیں ہونے دیں گے، ہم اس ملک کی سلامتی کے اداروں کے ساتھ نہیں کھیلنے دیں گے ،پاک فوج کے ساتھ قوم کھڑی ہے بلاول بھٹو کو سمجھ آگئی ہے کہ یہ کھیل کسی اور کا ہے اپوزیشن کی پونے گیارہ جماعتیں لندن بیانیے کے ساتھ نہیں۔سچی بات تو یہ کہ بیٹی اور بھائی بھی لندن بیانیہ کے ساتھ نہیں۔اعجاز الحق کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ آج مقبوضہ کشمیر میں کشمیری محصور ہیں۔ گیارہ پارٹیوں کی قیادت کو اللہ تعالی ہدایت دے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر ظلم کیا جارہا ہے اور آپ فوج کے خلاف باتیں کررہے ہیں آئی جے آئی جب بنی تب بھی پیسے تقسیم ہوئے تھے تب تو نواز شریف بریف کیس دے رہے تھے مجھے بھی پیسے بھجوائے گئے میری والدہ نے کہا کہ اسی وقت پیسے واپس دے کر آو، میں نے اسی وقت پیسے واپس کئے ورنہ میرا نام بھی سپریم کورٹ کی لسٹ میں ہوتا نواز شریف نے ماضی میں کور کمانڈر ز کو بھی رشوت دینے کی کوشش کی۔نواز شریف نے اس وقت بی ایم ڈبلیو کی چابیاں بھجوائیں جنرل آصف نواز نے اس کا سختی سے نوٹس لیا اور پیغام بھیجوایا کہ خبر دار میرے کور کمانڈر کو رشوت دینے کی کوشش کی۔ وحید کاکڑ سے نواز شریف کی لڑائی ہوئی، جنرل مشرف کو جب بنانا تھا تو اس وقت تک نہیں بنایا جب تک ابا جی کی ملاقات نہیں کروائی پھر مشرف سے بھی نواز شریف کی لڑائی ہوئی،انہوں نے کہا کہ یہ تو بڑا لحاظ کیا کہ تم کو باہر جانے دیا۔مریم نواز نے تقریر کی ایک دفعہ بھی شہباز شریف کا نام نہیں لیا عمران خان سے بھی گزارش ہے کہ اللہ کا واسطہ ٹیم تو ٹھیک لاﺅ ،پیرا شوٹر ز کو کہا ں سے لاکر بٹھا دیا۔ساٹھ روپے چینی کا نوٹس لیا ایک سو دس روپے کر دی۔آٹے کا نوٹس لیا وہ بھی مہنگا ہوگیا ہے۔اب کہتے ہیں کہ گیس بھی نہیں ملے گی ،یہ 12 لوگوں کی ٹیم نہیں بلکہ 22 کروڑ عوام کا ملک ہے انکا سوچیں۔چوروں کو بالکل پکڑو مگر قوم کو بھی مہنگائی کی مصیبت سے نکالو۔ان کو اندر کرنے سے لوگوں کا پیٹ تو نہیں بھرے گا ہمیں اقتدار کا کوئی لالچ نہیں۔ان لوگوں کو شرم نہیں آئی قرضے معاف کرواتے ہوتے ۔انہوں نے کہا کہ جنرل باجوہ اور جنرل فیض کی چھوڑیں اور منی ٹریل دیں۔نواز شریف قطر میں سیف الرحمن کا پارٹنر ہے۔محترمہ بے نظیر بھٹو نہ آتیں تونواز شریف نے کبھی پاکستان نہیں آنا تھا۔بلاول بھٹو نے بھی کہہ دیا کہ افواج پاکستان کے خلاف زبان کی مذمت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اچھی جذباتی تقاریر کیں لیکن اس سے لوگوں کا پیٹ نہیں بھرے گا،کسی کو لندن، کسی کو امریکہ سے پکڑ کر عمران خان نے یہاں بیٹھا دیا۔پاکستان کی فوج کا فنکشن آج ہوا اور گوجرانوالہ مودی کی فوج کا فنکشن ہوا۔گوجرانوالہ جلسے میں مولانا فضل الرحمن کے ساتھ بری ہوئی کہ کرسیاں خالی تھیں۔ روٹی دس روپے کی ہونے اور مجھے کیوںنکالا کے ذمہ دار نواز شریف آپ ہیں جنرل باجوہ کی ایک غلطی ہے کہ انہوں نے نواز شریف کو باہر جانے دیا، میں تو نہیں کہتا کہ جنرل فیض نے مجھے ہرایا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے فوج کے خلاف ایسی زبان استعمال کی جو کہ بھارت کا وزیر اعظم بھی نہیں کرتا۔میری بہن نے سچ کہا کہ یہ بیانیہ بہت مشکل ہے۔کشمیر میں 60 لاکھ افراد کو محصور کیا گیا ہے ۔ جنرل درانی سے سب سے پہلے پیسے پکڑنے والے نواز شریف تھے، مولانا سمیع الحق کے سر سے پگڑی اتار کر آئی جے آئی کی نواز شریف کے سر رکھی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں