177

سید خورشید گیلانی رفتید ولے نہ از دل-ماتحریر : حافظ شفیق الرحمن

سید خورشید گیلانی
رفتید ولے نہ از دل-ما

حضرت مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، مولانا احمد رضاخان بریلوی،علامہ اقبال،سید قطب،حسن البنیٰ شہید،سیدمودودی،یوسف القرضاوی،مولانا امین احسن اصلاحی، قاری طیب،مولانا ابوالحسن علی ندوی، مولانا وحیدالدین خان اور ڈاکٹر علی شریعتی کی تصنیفات ا ن کے زیر مطالعہ رہتیں۔وہ ان کا مطالعہ بہ نظر غائر کرتے۔حکیم الامت علامہ محمداقبال تو ان کی عقیدتوں اور ارادتوں کا محور و مرکز تھے۔ ان کی یاد میں منعقدہ ہر پروگرام اور تقریب میں شرکت کرتے۔ اقبالیات کے حوالے سے شایع ہونے والی ہر نئی کتاب خرید کر ذوق و شوق سے پڑھتے۔
ان کا حلقہِ احباب انتہائی وسیع تھا۔ اس حلقے کی خوبی تنوع اوربوقلمونی تھی۔ اس گل دستہِ احباب میں ہر رنگ کا پھول تھا۔ اس میں علماء، ادباء، شعراء، خطباء، زعماء، اساتذہ ، صحافی، دانشور، دُرویش، فقیر، امیر،وزیر،مدیر اور طلباءسب شامل تھے۔ حفظِ مراتب کے باوجود سب کے ساتھ وہ یکساں محبت اور احترام سے پیش آتے۔ وہ تعلقات بنانے اور نبھانے کا فن اور ہنر جانتے تھے۔ بلکہ مجھے یہ کہنا چاہیے کہ وہ سوشیالوجی کے سائنٹسٹ اوربے مثل ماہر نفسیات بھی تھے ۔ ان کی محفل میں جسے بھی ایک مرتبہ بیٹھنے کا موقع ملتا،عمر بھر کے لیے وہ ان کا گرویدہ اور والہ و شیدا ہوجاتا۔ قنوطیت، بیزاری اور مایوسی کے مارے لوگ ان کے پاس آتے، پانچ دس منٹ ان کی صحبت میں گزارتے اورجب رخصت ہوتے تو امید اور رجائیت کی کہربائی لہروں کو اپنے رگ و پے میں زقندیں بھرتے محسوس کرتے۔ نا امیدی کی تاریکیاں کافور ہوجاتیں، مایوسی کی دھند چھٹ جاتی اور بیزاری کے سائے ڈھل جاتے۔ یہ سب ان کی خوش خصالی کا اعجاز، خوش مقالی کی تاثیر اور خوش خلقی کی کرامت تھی۔ وہ ہر ملاقاتی سے اس کی ذہنی سطح کے مطابق گفتگو کرتے۔ پیچیدہ ترین مسئلے کو سادہ ترین الفاظ میں سلجھا دینا ا ن کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ یہ ان کے لیے اتنا ہی آسان تھا جتنا چودہویں کے چاند کے لیے بہتے ہوئے پانی میں اپنا مکھڑا دیکھ لینا یا بادِ صبا کے شوخ وشنگ جھونکوں کے لیے کونپلوں اور کلیوں سے اٹکھیلیاں کرنا۔۔۔ وہ مسئلہ جس کا حل ملاقاتی کے لیے پہاڑ کی چوٹی سر کر نے کے مترادف ہوتا، گیلانی مرحوم اس کی ہر گرہ یوں کھول کر رکھدیتے کہ ملاقاتی کو محسوس ہوتا ’میں نے خواہ مخواہ اِسے ہوّا بنا رکھا تھا، یہ تو کوئی بات ہی نہ تھی ‘۔ اس کے کاندھوں اور اعصاب کا بوجھ اتر جاتا اور وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتا۔
گیلانی مرحوم نے مجید نظامی مرحوم سے زندگی بھر محبت و احترام کا رشتہ برقرار رکھا۔ مجید نظامی مرحوم کی خواہش اور فرمائش پر ہی نوائے وقت میں کالم لکھنا شروع کیا ۔مجیب الرحمن شامی، الطاف حسن قریشی اور مصطفیٰ صادق مرحوم سے ان کاقریبی تعلق تھا۔ اکابر علماءسے بلا امتیاز مسالک و مذاہب رابطے میں رہتے ۔ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی سے ان کا تعلق ارادتمندانہ اور عقیدت مندانہ تھا۔ وصیت تھی کہ میری نماز جنازہ شاہ احمد نورانی پڑھائیں۔ مولانا مودودی، پیر محمد کرم شاہ الازہری، غزالیِ دوراں صاحبزادہ احمد سعید کاظمی، ڈاکٹر اسراراحمد، مولانا اسحاق بھٹی، مفتی محمد حسین نعیمی، نعیم صدیقی، سید اسعد گیلانی اورمحمود احمد غازی سے ان کی باقاعدہ ملاقاتیں اور علمی نشستیں رہیں۔ مولانا وحید الدین خان 1995ءمیں پاکستان آئے تو ان سے بھی ملاقات کی اور مختلف موضوعات پر علمی مباحث رہے ۔ مولانا عبدالستار خان نیازی ان سے بے پناہ پیار کرتے ۔ یہ اُن کی خوردنوازی تھی کہ ان سے ملاقات کے لیے کئی بار مرغزار کالونی اور کریم بلاک علامہ اقبال ٹاون تشریف لائے۔ وہ مفتی عبدالقیوم ہزاروی کا ذکر احترام سے کرتے۔ انہیں شعر وادب سے گہری دلچسپی تھی۔ ادب اور ادیبوں کے ساتھ بے پایاں محبت رکھتے تھے۔ شاعر مزدوراحسان دانش سے ملاقات کے لیے ان کے ہاں جاتے۔ احمد ندیم قاسمی،عبدالعزیز خالد، پیر نصیر الدین نصیر، حفیظ تائب، ملک واصف علی واصف، اشفاق احمد،شہزاد احمد، افتخار عارف، ریاض حسین چوہدری، شہزاد احمد، حسن رضوی، ملک محبوب الرسول قادری،شعیب بن عزیز، سید منظور الکونین اور محمد علی ظہوری سے بھی ملاقاتیں تسلسل سے رہیں۔ سرائیکی وسیب اور عوامی محسوسات کے حقیقی ترجمان شاعر شاکر شجاع آبادی سے ان کی محبت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے کئی کالموں کا عنوان ان کے مصرعہ ہائے بے مثال سے کشید کیا۔ جن سیاسی لوگوں سے تعلق یا ملاقات رہی، ان کی فہرست بہت طویل ہے۔ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی، سردار فاروق لغاری، میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد، شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری، رفیق تارڑ، مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان، مخدوم شہاب الدین، سید منور حسن ، جنرل حمید گل، لیاقت بلوچ ، فرید پراچہ، حنیف رامے ، رفیق احمد باجواہ، جنرل کے ایم اظہر، پیر امین الحسنات اورمولانا عبدالرحمن مدنی (اہل حدیث) سے ان کا دوستانہ تھا۔ 2 مرتبہ ایران گئے، بانیِ انقلاب آیت اللہ خمینی اور ڈاکٹر علی شریعتی سے ملے۔ مولاناابوالحسن علی ندوی (علی میاں ) جب بھارت سے تشریف لائے تو ان سے بھی شرف ملاقات حاصل کیا۔ 1996ء میں افغانستان گئے۔ وہاں پروفیسر برہان الدین ربانی، انجینئیر گلبدین حکمت یار، کمانڈر احمد شاہ مسعود، پیر صبغت اللہ مجددی اور پروفیسر عبدالرب رسول سیاف سے ملاقاتیں رہیں۔ انہوں نے 1997ءمیں عمرہ کی سعادت حاصل کی۔ ان کا ناقابل فراموش کارنامہ فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام تھا۔ اس کمیٹی میں حکیم محمد سعید، مدیر تکبیر صلا ح الدین، جسٹس(ر)نسیم حسن شاہ، ڈاکٹر اسرار احمد، پسرِ اقبال جسٹس (ر)جاوید اقبال، فرید پراچہ اورساجد نقوی شامل تھے۔ کمیٹی کا لاہور میں اجلاس تھا کہ اس میں شرکت کے لیے مدیر تکبیر صلاح الدین گھر سے ائر پورٹ جانے کے لیے نکلے اور راستے میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہوگئے۔
1998 میں کینسرکا مہلک عارضہ لا حق ہوا، وہ 5 برس تک جواں مردی اور بہادری کے ساتھ اس موذی مرض سے نبرد آزما رہے۔ جنوری2001ء میں آپ گنگا رام ہسپتال داخل ہوئے اور تادم مرگ وہیں زیر علاج رہے۔ جب تک ہاتھوں میں جنبش اور آنکھوں میں دم رہا، قلم اوِر کتاب سے رشتہ منقطع نہ ہونے دیا۔ مطالعہ سے شغف کا یہ عالم تھا کہ بسترِ علالت پر بھی کتابیں ان کے سرہانے موجود رہتیں۔ وہ ایک فنا فی الرسول، فنا فی الاسلام اور فنا فی الباکستان صوفی تھے۔ موذی مرض کے شدید غلبے میں بھی اس ارادہ کا اظہار فرما تے کہ’ طبیعت سنبھلتے ہی سیرت النبی پر کام شروع کردوں گا‘۔ آخری ایام میں ذرا افاقہ ہوتا تو قلم اور کاغذ طلب کرتے اور لکھنے کی کوشش کرتے۔ جب کمزوری زیادہ محسوس کرتے تو چھوٹے بھائی سید احسان احمد گیلانی کو ڈکٹیٹ کراتے۔ جنوری سے مارچ کے آخر تک شایع ہونے والے تمام کالم انہوں نے احسان گیلانی کو ڈکٹیٹ کرائے۔ نوائے وقت کے لیے آخری کالم مارچ کی26 تاریخ کو’ اجتہاد: ایک ضرورت ایک نعمت‘ کے عنوان سے ڈکٹیٹ کرایا ۔ 30 اپریل کو پرسش احوال کے لیے مولانا عبدالستار خان نیازی کی جانب سے کوئی صاحب آئے۔ سلام عرض کرنے کے بعد بتایا کہ’ مولانا آپ کی علالت اور بیماری کے حوالے سے انتہائی فکر مند اور آپ کی صحت کی بحالی کے لیے دعا گو ہیں‘۔ آپ نے قاصد سے کہا” میری جانب سے ان کا شکریہ ادا کردیجیے اور بتادیجیے کہ میں بھی ان کی درازیِ عمر کے لیے دعا گو ہوں کہ مولانا ہماری ملی تاریخ کا ایک پر افتخار اور لائق رشک باب ہیں“۔ 2روز بعد2 مئی کو جب مولانا کے انتقال کی خبر سنی تو انتہائی رنجیدہ و افسردہ ہوئے۔ وفورِ جذبات میں برادرِ خورد سید احسان احمد گیلانی سے کہا:” فوراً گاڑی لاﺅ، میں نے میانوالی جانا اور مولانا کی تربتِ زندہ کی زیارت کرنا اور فاتحہ پڑھنا ہے“۔۔۔حالا نکہ انہیں ادراک تھا کہ ن کی اپنی صحت بارش میں گرتی ہوئی کچی دیوار کی مانند ہے، نیز یہ کہ’ دل کا جانا ٹھہر گیا ہے، صبح گیا یا شام گیا‘۔۔۔ عمران نقوی 10ربیع الاول کو ان کے کالموں کے مجموعہ” قلم برداشتہ“کی چند مطبوعہ جلدیں لے کر انہیں ملنے آئے۔ اپنے رُشحاتِ فکر کوکتابی شکل میں دیکھ کر ا ظہار مسرت کرتے ہوئے اُن کا شکریہ ادا کیا۔عمران نقوی نے بہ صد اشتیاق ایک کتاب آگے بڑھائی اور خواہش کا اظہار کیا کہ اپنے دستِ مبارک سے اس پر تبرکاً کچھ لکھ د یں اور دستخط بھی فرمادیں۔ نقاہت بے تحاشا تھی، کم زوری کا غلبہ تھا، اس کے باوجود چھوٹے بھائی احسان گیلانی سے کہا:’ مجھے قلم دو‘….کپکپاتے ہاتھوں میں قلم تھاما اور آخری تحریر لکھی:’ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی، اب تو آجا اب تو خلوت ہوگئی‘….شعر کے نیچے اپنے دستخط کر کے کتاب عمران نقوی کو واپس کردی۔ اس موقع پر عمران نقوی نے 10 ہزار روپے پیش کیے اور بتایا کہ یہ حقیر نذرانہ پہلے ایڈیشن کی رائیلٹی ہے۔ 10 ربیع الاول کی شام غنودگی سے اٹھے اور احسان گیلانی سے کہا:اٹھو، کھڑے ہوجاﺅ،دیکھتے نہیں کہ سبز عمامے والے ایک بزرگ آئے ہیں، انہیں بیٹھنے کی جگہ دو“۔۔۔احسان گیلانی کہتے ہیں کہ’ میں یک دم اٹھا ، آمنے سامنے، دائیں بائیں اور اِدھر اُدھر دیکھا لیکن مجھے کوئی نظر نہیں آیا، عرض کیا ، مجھے تو کوئی دکھائی نہیں دے رہا“۔ اس کے بعد 2 دن ان پر غنودگی کی کیفیت طاری رہی۔ آخر وقت ِمقررہ آن پہنچا۔ہاتف غیبی نے سرگوشی کی۔ ’یا ایتھا انفس المطمئنہ ، ارجعی الیٰ ربک راضیة مرضیہ، فاادخلی فی عبادی وادخلی جنتی ‘….چہرے پر ایک ملکوتی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔نشانِ مردِ مومن باتو می گویم، چوں مرگ آید تبسم بر لبِ اوست….5 جون 2001 کو جب ہجری کیلنڈر کے افق پر12 ربیع الاول کے سورج کی کرنیں ضو فشاں ہوئیں تو آپ کے ہونٹوں پر خواجہ عزیز الحسن مجذوب کا یہ شعر رواں ہوا:’ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی، اب تو آجا اب تو خلوت ہوگئی‘….کلمہ طیبہ لاالٰہ الااللہ محمد الرسول اللہ کا ورد کیا اور اس عالم فانی سے عالم بقا کی طرف کوچ کرگئے۔ اس موقع پر سید ارشاد احمدعارف ،سید احسان احمد گیلانی اورمولاناسلیمان طاہر موجود تھے۔ ان کی نماز جنازہ شہیدِ پاکستان ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے پڑھائی۔
ان کے ورثاء میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ان کے وضع کردہ جادہِ علم پر گامزن ہیں۔ ان کے بیٹے احمد نے ابلاغ عامہ میں ایم فل کیا اور سب سے چھوٹی بیٹی ایم بی بی ایس کی طالبہ ہے۔ ان کی یادگار کل تیرہ کتابیں ہیں۔ 6 کتابیں ان کی حیات مستعار میں شایع ہو ئیں۔ فکر اسلامی، وحدت ملی، عصر یات، روح انقلاب، روح تصوف، اسلوب سیاست اور فکر امروز….یہ بات بہت کم لوگوں کے علم میں ہوگی کہ انہوں نے1981 میں اپنی پہلی کتاب روح تصوف دوران اعتکاف سپرد قرطاس کی۔ آخری ایام میں میں قلم برداشتہ اور الہدیٰ عمران نقوی کی کوششوں سے زیور طباعت سے آراستہ ہوئیں۔ بعد ازاں ان کے برادرِخوردسید احسان احمد گیلانی کی مساعی جمیلہ سے ’خون جگر ہونے تک، رشک زمانہ لوگ،قلم برداشتہ( دوم )اورتاریخ کی مراد‘ منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئیں۔ صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی کو آج ہم سے بچھڑے 19 برس بیت گئے۔ 19 برس قبل وہ اس دارِفانی سے دار البقا کی طرف ہجرت کر گئے، وہ پردہ فرما گئے لیکن اب بھی بسااوقات یوں محسوس ہوتا ہے:

گلزار کے سایوں میں وہی حشر بپا ہے
پھولوں سے ابھی تک تیری خوشبو نہیں جاتی

تحریر : حافظ شفیق الرحمن کالم نگار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں