246

بچھڑ کر بھی محبت کے زمانے یاد رہتے ہیں : اُسامہ طاہر جاوید

بچھڑ کر بھی محبت کے زمانے یاد رہتے ہیں
گزارے دن ترے سنگ جو سہانے یاد رہتے ہیں

تری زلفِ قیامت کی اسیری سے نکل آیا
تجھے ملنے کے اب بھی سب بہانے یاد رہتے ہیں

لگا کر دل کی بازی جو صنم کو ہار بیٹھے ہیں
مجھے ایسے بیچاروں کے فسانے یاد رہتے ہیں

ہماری دوستی میں ایک خوبی سب سے اچھی ہے
کہ دونوں کو منانے کے بہانے یاد رہتے ہیں

ہماری قوم کا فوجی کبھی بوڑھا نہیں ہوتا
کمانیں یاد رکھتا ہے نشانے یاد رہتے ہیں

کوئی مرتا ہے مر جائے ہمیں وڈیو بنانی ہے
سڑک پر بھی بیہودہ شاخسانے یاد رہتے ہیں

اُسامہ طاہر جاوید

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں