214

ملک میں احتجاجی صورت حال اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کے ذمہ داران تحریک لبیک پاکستان سے معاہدہ کرنے والے وفاقی وزرا ہیں۔ حکومت نے معاہدہ کو قرارداد کے طور پر پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا وعدہ کیا، مگر ایسا نہ کیا گیا جس سے صورت حال خراب ہوئی:لیاقت بلوچ

لاہور(عزیزالرحمن مجاہد سے)ملی یکجہتی کونسل کے صدر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ملک میں احتجاجی صورت حال اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کے ذمہ داران تحریک لبیک پاکستان سے معاہدہ کرنے والے وفاقی وزرا ہیں۔ حکومت نے معاہدہ کو قرارداد کے طور پر پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا وعدہ کیا، مگر ایسا نہ کیا گیا جس سے صورت حال خراب ہوئی۔ حکمرانوں نے مظاہروں کو روکنے کے لیے مذاکراتی راستہ اپنانے کی بجائے تصادم کی راہ اپنائی اورلوگوں کو سیدھی گولیاں ماری گئیں۔ جاں بحق ہونے والے مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ ان خیالات کا اظہار دونوں رہنماﺅں نے منصورہ سے جاری مشترکہ بیان میں کیا۔
ملی یکجہتی کونسل کے رہنماﺅں نے کہا کہ تحریک لبیک پر پابندی لگانے کا فیصلہ غیر دانشمندانہ ہے اور اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ماضی میں بھی اس طرح کارروائیاں ہوئیں، مگر تنظیمیں متبادل ناموں کے ساتھ میدان میں موجودہیں۔ حکومت طاقت اور جبر سے لوگوں کے نظریات کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ معاملات کو قابل قبول بنانے کے لیے جس حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے حکومت اس سے عاری ہے۔دونوں رہنماﺅں نے حکومت سے استدعا کی ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیںاور بیرونی آقاﺅں کو خوش کرنے کے لیے اسلام دشمن پالیسیاں تشکیل دینے سے گریز اختیار کریں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ و دیگر رہنماﺅں کو رہا کرے اور صلہ رحمی سے کام لے۔ انھوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات بوکھلاہٹ کا شاخسانہ ہیں۔ حکومت مہنگائی اور بے روزگاری پر قابو پانے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ حکومت
جان بوجھ کر اپنی نااہلی چھپانے کے لیے اس طرح کے اقدامات کرتی ہے جس سے لوگوں کی توجہ مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر مسائل سے توجہ ہٹ سکے۔دونوں رہنماﺅں نے جلاﺅ گھیراﺅ کی پالیسی کی بھی مذمت کی اور کہا کہ پرامن احتجاج ملک کے ہر شہری کا حق ہے، مگر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا اور سڑکوں جام کر کے عوامی مسائل میں اضافہ کرنا آئین پاکستان سے روگردانی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو بھی اپنے وعدوں کی پاسداری کرنا ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں