267

UOGکے 4000سے زائد طلبہ و طالبات کا مستقل تباہ ہونے کا خدشہ:زینب صدیق

پاکستان تعلیمی لحاظ سے باقی دنیا سے کافی پیچھے تصور کیا جاتا ہے اور یہاں شرح تعلیم صرف59.13% ہے۔ اب ایک ایسا ملک جو پہلے ہی تعلیمی معاملات میں مشکلات کا شکار ہو اور جہاں 41%بچے پرائمری میں ہی سکول چھوڑ جاتے ہوں وہاں اعلیٰ تعلیم کا حصول بہت سے بچوں کے لیے ابھی ایک خواب کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسخواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانا دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے تو اور بھی زیادہ مشکل ثابت ہوتا ہے کہ ان علاقوں میں اچھے اور معیاری تعلیمی اداروں اور وسائل کی شدید کمی در پیش ہوتی ہے۔رہی سہی کسر کرونا نے پوری کر دی اور گزشتہ ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصے سے طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔
دیگر تمام اداروں کی طرح یونیورسٹی آف گجرات کے بی۔اے،بی۔ایس۔سی سال 2020امتحانات کا انعقاد تاخیر سے ہوا اور پھر نتائج کا اعلان 4مئی 2021 کو کیاگیا۔ بی۔اے کے امتحانات مین کل 5151امیدواروں نے حصہ لیا جن میں سے 2359امیدوار کامیاب ہوئے اور کامیابی کا تناسب 46.71%رہا۔اسی طرح بی۔ایس۔سی کے امتحانات میں کل 2688 طلبہ نے حصہ لیا اور 1882امیدوارکامیاب ہوئے جبکہ کامیابی کا تناسب 70.83%رہا۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے گزشتہ سال دو سالہ بی۔اے،بی۔ایس۔سی اور ایم۔اے، ایم۔ایس۔سی ڈگریوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور گریجویشن ڈگری کے حامل طلبہ و طالبات کے لیے یونیورسٹیز کوخصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ ان طلبہ کو چار سالہ بی۔ایس پروگرام کے پانچویں سمسٹر میں داخلہ دیا جائے تاکہ ان کا تعلیمی حرج نہ ہو۔
اب پاکستان کی بیشتر ٹاپ ہونیورسٹیز بشمول قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آ باد، نمل یونیورسٹی اسلام آباد نے تو پانچویں سمسٹر میں داخلے کیے ہیں مگر یونیورسٹی آف گجرات کی طرف سے ابھی کوئی پالیسی سامنے نہیں آئی اور انتظامیہ نے افسوسناک طور پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ رزلٹ کے اعلان کے فوراً بعد یونیورسٹی سے رابطہ کیا گیا کہ آگے داخلے کا کیا طریقہ کار ہے اور یونیورسٹی کی کیا پالیسی ہے جس کے جواب میں یہ کہہ کر مطمئن کر دیا گیا کہ ہم پالیسی بنا رہے ہیں آپ داخلے کھلنے کا انتظار کریں۔
یاد رہے کہ یہ مئی کے اوائل کی بات ہے اور اکثر یونیورسٹیز کے داخلے جولائی اور اگست میں بند ہو جاتے ہیں۔ اگست میں جب یونیورسٹی آف گجرات کی طرف سے داخلوں کا اعلان کیا گیا تو نہ تو ماسٹرز میں داخلے کھولے گئے اور نہ ہی پانچویں سیمسٹر میں۔ اب ملک کی بیشتر یونیورسٹیز کے داخلے بند ہو چکے ہیں اور یونیورسٹی آف گجرات بھی ان طلبہ کو داخلے دینے کو تیار نہیں۔ ان طلبہ کا کرونا کی وجہ سے ایک سال پہلے ہی ضائع ہو چکا ہے اور آگے کی بھی کوئی خبر نہیں۔
یونیورسٹی کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ہم پالیسی بنا رہے ہیں مگر جب ایچ۔ای۔سی کی طرف سے واضح پالیسی بتا دی گئی ہے تو یو نیورسٹی کو کس بات کا انتظار ہے اب؟ رہی بات یونیورسٹی پالیسی کی تو رزلٹ انانوئنس ہونے سے لے کر داخلے کھلنے تک تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ تھا۔ اس وقت کیوں نہیں کوئی لائحہ عمل تیار کیا گیا؟اب بی۔اے، بی۔ایس۔سی کے لگ بھگ پانچ ہزار طلبہ بشمول ٹاپرز اِدھر اُدھر دھکے کھاتے پھر رہے ہیں۔ یونیورسٹی کوطلبہ کی جانب سے ایک ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں کہ ہمارے داخلے کی کیا صورتحال ہے مگر کوئی داد رسی کرنے کو تیار نہیں۔
ہر طالب علم بالخصوص طالبات اعلیٰ تعلیم کے لیے بڑے شہروں کا رخ نہیں کر سکتیں۔ یونیورسٹی آف گجرات ایسے طلبہ و طالبات کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ تو ایسے میں یونیورسٹی کو چاہیے کہ وہ مزید ایک لمحہ ضائع کیے بغیر داخلوں کا اعلان کرے تاکہ ان کا مزید تعلیمی حرج نا ہو۔ طلبہ ایچ۔ای۔سی کی ہدایات کے مطابق bridging semesterکی شرط پوری کرنے کو تیار ہیں۔
ایسے اہم تعلیمی مسائل پر اعلیٰ عہدیداران کے خاموشی قابلِ شرم ہے۔ ہم بحثیت قوم مزید سستیوں کے متحمل نہیں لہٰذا اس مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے تاکہ یہ طلبہ اعلیٰ تعلیم کے زیورسے آراستہ ہو کر ملک و قوم کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں