سانحہ لبیا پر احمد رضا بٹ کی تحریر

انداز بیاں گرچہ شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات
روزگار کی خاطر اٹلی جاتے 150 شہید ہونے والے نوجوانوں جن میں 50 پاکستانی ہیں کے ذمہ دار سیاستدان،جج،بیوروکریٹس اور جرنیل ہیں جنہوں نے 76 سال سے ملک کو کوٹھے کی رنڈی کی طرح اپنی آسائشوں اور عیاشیوں کا ساماں بنایا ہوا ہے اور ہم غریب عوام دو وقت کی روٹی، اپنی بہنوں بیٹیوں کی عزت سے ان کے سسرالوں میں رخصتی،بوڑھے والدین کی دیکھ بھال،اپنے بچوں کی بہتر کفالت اور چند کمروں پر بننے والے ایک مکاں کیلئے اپنوں سے دور پردیس کی راہ لیتے ہیں تو کبھی راستے میں ہی ان 150 نوجوانوں کی طرح اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ اپنے خواب بھی ہار جاتے ہیں تو کبھی سالہ سال مزدوریاں کرتے کرتے اپنی زندگی اپنوں کی غموں خوشیوں کا حصہ بنے بغیر اپنے صبح و شام اپنی نیند اور صحت کی پرواہ کیے بغیر مر کر کسی بکس میں بند اپنی مٹی میں دفن ہونے کیلئے اپنے وطن بھیج دیئے جاتے ہیں
بیشرمی اور بیغیرتی سے بھرے یہ ارباب اختیار جو ہمیشہ کہتے ہیں کہ اوورسیز پاکستانی ہمارا سرمایہ ہیں کبھی انہوں نے یہ بھی کوشش کی کہ ان لاکھوں بے بس اوورسیز پاکستانیوں کیلئے ایسے مواقع پیدا کریں کہ چند ہزاروں کیلئے پردیس میں دھکے کھانے کی بجائے یہ اپنے وطن میں آ کر اپنوں میں ایک پرسکون زندگی گذاریں یہ تو بہت دور کی بات ہے کبھی انہوں نے یہ کوشش کی کہ جب یہ اوورسیز پاکستانی اپنے وطن آتے ہیں تو ان کو عزت سے آنے اور جانے دیا جائے؟
ہر بات سوالیہ نشان تھی،ہے اور یقینا ہم بےحس لوگوں کی بےحسی ختم ہونے تک یہ سوالیہ نشان ہی رہے گی۔ کیونکہ ان محرومیوں اور بےبسیوں کے ذمہ دار ہم عوام خود ہیں جو نسل در نسل ذہنی غلامی اور اس فرسودہ نظام کے جال میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ ہمیشہ اپنی آنیوالی نسلوں کے بہتر مستقبل کو اپنی چھوٹی ضرورت اور مطالبات کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں جب تک ہم بڑی سوچ کے ساتھ اپنے بنیادی حقوق اور اپنی آنے والی نسلوں کی بہتری کیلئے کھڑے نہیں ہوتے اور وقت کے ارباب اختیار ان فرعونوں کا محاسبہ نہیں کرتے اس وقت تک غلامی کا طوق ہماری گردن سے اترے گا نہ ہمارے حالات بدلیں گے
کم از کم آواز حق بلند کرنا ہو گی شاید کہ ایک مشترکہ جدوجہد سے سوئے ضمیروں میں بیداری آ جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں